’اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا دروازہ کھل گیا‘

ناجائز قبضے کا تسلسل عالمی برادری کی پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔فائل فوٹو
فلسطینی دفتر خارجہ نے کے مطابق قابض اسرائیلی حکام فوجداری کی عالمی عدالت کے فیصلے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔عالمی عدالت نے فلسطین کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کا اعتبار بحال کیا ہے۔
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق فلسطینی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ فوجداری کی عالمی عدالت کے فیصلے کی بدولت اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا دروازہ کھل گیا ہے۔
پی ایل او کی مجلس عاملہ کے سیکریٹری جنرل صائب عریقات نے عالمی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ یہ مسئلہ فلسطین کے دھارے کو تبدیل کردے گا۔ اسرائیل سے کبھی اس کے کسی جرم پر کوئی احتساب نہیں ہوا۔

 فیصلے کی بدولت اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا دروازہ کھل گیا ہے۔فائل فوٹو

عالمی عدالت کی113صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلی تحقیقات مکمل ہوگئی ۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ غرب اردن، مشرقی القدس اور غزہ پٹی میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
عریقات نے این جی اوز سے اپیل کی کہ قابض حکام کے متاثرین پر توجہ مرکوز کرے اور ان سے متعلق تمام تفصیلات اجاگر کریں۔
فلسطینی رہنما نے مزید کہا کہ جو شخص عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف دعویٰ دائر کرے گا ہم اس کی پشت پناہی کریں گے۔
عریقات نے اسرائیلی ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری کی عالمی عدالت کا یہ فیصلہ اسرائیل کے لیے سیاہ دن ہے۔ ناجائز قبضے کا تسلسل عالمی برادری کی پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔
عریقات کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکی حکومت اسرائیل کی جانب داری کے دائرے سے نکل کر اسرائیل کی مکمل حمایت کے دائرے میں منتقل ہوگئی ہے۔
  
 
خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں
 

شیئر: