Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تمغہ پانے والا پولیس افسر ’شدت پسندوں‘ کے ساتھ گرفتار

دویندر سنگھ کو گزشتہ برس اگست میں انڈین صدر کی جانب سے بہادری کا تمغہ دیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا میں پولیس حکام کے مطابق انڈین صدر کی جانب سے بہادری کے تمغے سے نوازے جانے والے پولیس افسر کو مبینہ طور پر سری نگر جموں ہائی وے پر ایک کار میں حزب المجاہدین کے دو ’شدت پسندوں‘ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس دویندر سنگھ سری نگر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعینات ہیں اور انہیں حزب المجاہدین کے نوید بابو کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے جن پر گیارہ غیر کشمیریوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔
پولیس کے مطابق ’جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر مقامی ٹرک ڈرائیوروں اور مزدوروں کو قتل کیا گیا جس کا مقصد کشمیر میں سیب کی صنعت کو نقصان پہنجانا تھا۔‘

 

پولیس کا کہنا ہے کہ ’ہم نوید بابو کی جاسوسی کر رہے تھے اور جب اس نے اپنے بھائی کو فون کیا تو اس کی لوکیشن ظاہر ہو گئی۔‘
پولیس نے گاڑی کو روکا جس میں نوید بابو، جو سابق سپیشل پولیس آفیشل رہ چکے ہیں، اپنے ساتھی آصف اوردویندر سنگھ کے ساتھ پائے گئے۔
دویندر سنگھ کو گزشتہ برس اگست میں انڈین صدر کی جانب سے بہادری کا تمغہ دیا گیا تھا۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد دہلی کیا کرنے جا رہے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

پولیس کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے بعد سری نگر اور جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔
پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد دہلی کیا کرنے جا رہے تھے۔
دویندر سنگھ کا نام 2013  میں اس وقت سامنے آیا جب انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے افضل گرو نے ایک خط میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ انہوں نے اس حملے میں ساتھ جانے کا کہا تھا۔

شیئر: