نوجوان نے ریڑھ کی ہڈی کا آلہ تیار کر لیا

ایک پاکستانی نوجوان نے پولیو سے متاثرہ افراد کی معذوری بڑھنے سے روکنے والا سستا آلہ تیار کیا ہے جو مقامی طور پر انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہو گا۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے شہاب الدین جو خود بھی پولیو کا شکار بننے کے بعد 1986 سے وہیل چیئر پر ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں یہ آلہ بنانے کا خیال تب آیا جب مسلسل وہیل چیئر پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی۔
معذور بالخصوص پولیو سے متاثرہ افراد کی ہڈیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے بیرون ملک کئی طرح کے آلات دستیاب ہیں۔ پاکستان میں ایسے آلات انتہائی مہنگے داموں ملتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ تر دوسرے ملکوں سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
شہاب الدین نے پشاور میں قائم مفلوج افراد کی بحالی کے ادارے کے ساتھ مل کر معذور افراد کی ریڑھ کی ہڈی کو بچانے والا آلہ مقامی طور پر تیار کیا ہے جو صرف پانچ ہزار روپے میں دستیاب ہو گا۔
شہاب الدین کے مطابق ’یہی آلہ اگر بیرون ملک سے منگوایا جائے تو 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کے اخراجات آتے ہیں۔‘ 
اس آلے کو ’پوسچر سپورٹ ڈیوائس‘ (پی ایس ڈی) کا نام دیا گیا ہے، اس کو ویل چیئر، گاڑی کی سیٹ یا عام کرسی سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔
’اردو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے شہاب الدین نے بتایا کہ ’ویل چیئر پر مسلسل بیٹھے رہنے کی وجہ سے ان کی اپنی ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہوتی چلی گئی، جس کے بعد ان کے لیے ویل چیئر پر بھی سیدھا بیٹھنا مشکل ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں پولیو متاثرین کے لیے اس طرح کا کوئی آلہ آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ پولیو سے متاثرہ افراد روز بروز اپنی ویل چیئرز میں دھنستے جا رہے ہیں۔‘
شہاب الدین نے پی ایس ڈی بنانے کا کام2013  میں اس وقت شروع کیا جب ان کو نیپال میں اس طرح کے آلات بنانے کے حوالے سے تربیت دی گئی۔

دنیا میں معذور افراد 360 مختلف مددگار آلات استعمال کرتے ہیں، فوٹو: اے ایف پی

شہاب الدین کہتے ہیں کہ ’پولیو سے متاثرہ ایسا شخص جس کی ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہو گئی ہے، وہ مسلسل ایک گھنٹہ ویل چیئر پر نہیں بیٹھ سکتا۔ لیکن اگر ویل چیئر کے ساتھ پی ایس ڈیز نصب کیے جائیں تو آٹھ سے 48 گھنٹے کرسی پر آرام سے بیٹھ سکتا ہے۔‘
اس آلے کو ویل چیئر یا کسی دوسری کرسی سے نصب کرنے کا کام آسان نہیں ہے اور اس کے لیے ایک تکنیکی ماہر کی ضرورت ہوتی ہے۔  
پیرا پلیجیک سنٹر پشاور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سید الیاس کا کہنا ہے کہ ’بظاہر سادہ نظر آنے والا یہ آلہ پولیو متاثرین کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

 یہ آلہ بیرون ملک سے منگوانے پر80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک اخراجات آتے ہیں 

’پاکستان میں  یہ ڈیوائس نہ ہونے کے باعث پولیو کے پرانے متاثرین کی ریڑھ کی ہڈیاں اتنی ٹیڑی ہو گئی ہیں کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہے۔ اب نہ ان کا علاج ممکن  ہے اور نہ آپریشن سے ان مریضوں کی ہڈیاں سیدھی ہو سکتی ہے۔‘
ڈاکٹر الیاس کا کہنا ہے کہ اس آلے کو ویل چیئر کی پشت پر نصب کیا جاتا ہے جس سے ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھنے اور خراب ہونے سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر سید الیاس کے مطابق اس سے پہلے پاکستان میں کسی کو مقامی طور پر یہ پی ایس ڈی بنانے کا خیال نہیں آیا۔
’پولیو سے بچاؤ کے لیے ہر سال کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پہلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ایک پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔‘


پاکستان میں 2014 سے 2019  تک پولیو وائرس کے 523 کیسز رپورٹ ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

شہاب الدین نے بتایا کہ ’اس ڈیوائس کو متاثرہ شخص کے فزیو تھراپسٹ اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ڈیزائن کیا جاتا ہے اور ایکسرے سے پتا لگایا جاتا ہے کہ یہ ویل چیئر میں کہاں نصب کرنا ہے۔‘
اب تک پولیو وائرس سے متاثرہ70  افراد کو یہ آلہ فراہم کیا جا چکا ہے۔ اب وہ کرسی پر آرم سے بیٹھ کر کام کرسکتے ہیں اور گھوم پھر بھی سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2014 سے2019  تک ملک بھر میں پولیو وائرس کے 523 کیسز رپورٹ ہوئے۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں  پاکستان میں سالانہ ہزاروں بچے پولیو وائرس سے متاثر ہوتے تھے تاہم 1994  میں بڑے پیمانے پر پولیو وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے مہم شروع کی گئی جس کے بعد ان کیسز میں کمی آئی۔
ڈبلیو ایچ او کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کے لیے 50 مختلف مددگار آلات ضروری ہیں۔ ان میں سے مقامی طور پر صرف دو آلات بنائے جاتے ہیں۔
شہاب الدین کا کہنا ہے کہ ’پوری دنیا میں معذور افراد  360قسم کے مختلف مددگار آلات استعمال کرتے ہیں۔‘

شیئر:

متعلقہ خبریں