’جرمنوں کو یقین نہیں ٹرک آرٹ ہاتھ کا بنا ہے‘

پاکستانی ہنرمند کی نقاشی دیکھنے والوں کو یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ ہاتھ سے کیا گیا کام ہے۔ فوٹو: مارٹن کوبلر
زندگی کے مختلف شعبوں میں ہر ملک اپنی انفرادیت رکھتا ہے، آرٹ کا مرحلہ ہو تو یہ انفرادیت یا اس کے متعلق گفتگو زیادہ نمایاں رہتی ہے۔ کچھ ایسا ہی مشہور زمانہ پاکستانی ٹرک آرٹ کے ساتھ ہوا جس پر مبنی سائیکل سابق جرمن سفیر کے ذریعے یورپی سیاحتی مقام پر پہنچی تو وہاں کے مکینوں کو یقین نہیں آیا کہ اس پر بنے نقش و نگار ہاتھ سے ترتیب دیے گئے ہیں۔
67 سالہ مارٹن کوبلر نے اس واقعے کا احوال بیان کرنے کے لیے ٹوئٹر کا رخ کیا اور بتایا کہ وہ بالٹک کے جزیرے پر تفریح کے دوران پاکستان سے لائی ہوئی ٹرک آرٹ پر مبنی سائیکل بھی ہمراہ لے گئے تھے جو جزیرے پر دلچسپی کا سامان بن گئی۔ دیکھنے والے اس بات پر یقین ہی نہیں کر رہے تھے کہ اسے ہاتھوں سے پینٹ کیا گیا ہے۔ 
اپنی ٹویٹ میں انہوں نے سائیکل کو ٹرک آرٹ سے مزین کرنے والے پاکستانی ہنرمند حاجی پرویز کا ذکر کرتے ہوئے دیکھنے والوں کو دعوت دی کہ وہ ان کے کام کی خوبصورتی ملاحظہ کریں۔ انہوں نے اسے بھلائی نہ جا سکنے والی یاد بھی قرار دیا۔
بطور جرمن سفیر اپنے قیام پاکستان کے دوران ڈپلومیٹک سرکل میں سوشل میڈیا خصوصا ٹوئٹر کے استعمال کو نیا انداز دینے والے مارٹن کوبلر ماضی میں بھی ٹرک آرٹ سمیت پاکستان کے دیگر منفرد پہلوؤں کو نمایاں کرتے رہے ہیں۔
ان کا یہ انداز اسلام آباد سے واپس جانے کے بعد بھی برقرار ہے۔ ٹرک آرٹ والی سائیکل کی کہانی بیان کرنے سے چند روز پہلے انہوں نے اپنے دورہ لندن کا احوال بیان کیا تھا۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ دوستوں سے ملاقات کے بعد واپس جانے لگے تو سکیورٹی چیکنگ کے مرحلے کے دوران ان کی ایک پاکستانی نژاد برطانوی سے ملاقات ہوئی جو ان کا سابق فالوور تھا۔
مارٹن کوبلر کے مطابق ایسی ملاقاتیں دل موہ لیتی ہیں اور ایسا تعلق بہت ہی محبوب ہوتا ہے۔
پاکستانی ہنرمند کے ہاتھوں ٹرک آرٹ سے مزین سائیکل کی ٹویٹ پر گفتگو کرنے والے پاکستانیوں کی اکثریت نے مارٹن کوبلر کے قیام پاکستان کے دوران کی جانے والی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا، ان کی کاوشوں کو سراہا اور پاکستان سے ان کے تعلق کو قابل قدر قرار دیا۔

کیٹیلسٹ نامی ایک ہینڈل نے تو ریاست پاکستان سے درخواست کر ڈالی کہ وہ مارٹن کوبلر کو اعزازی شہریت دے۔

شیئر: