نئے ڈی جی آئی ایس پی آر کے درجنوں جعلی اکاؤنٹس بن گئے

پاکستان کو شکوہ ہے کہ سوشل سائٹس جعلی اکاؤنٹس سے متعلق درخواست نہیں مانتیں
سوشل میڈیا پر پیروڈی اکاؤنٹس یا باٹس نئی بات نہیں لیکن شاٹ کٹ کے ذریعے نتیجہ حاصل کرنے کی عادت کہیں یا کسی اور کی شناخت اختیار کر کے فائدہ اٹھانے کی خواہش، سماجی رابطوں کی سائٹس خصوصا ٹوئٹر کی بلیک ہیٹ مارکیٹ 'امپرسونیشن' کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی۔
افواج پاکستان کے ترجمان کی تبدیلی اور نئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی تعیناتی کا موقع بھی بلیک ہیٹ مارکیٹ یا جعل سازوں کو غنیمت لگا۔ افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے نئے ڈی جی میجر جنرل بابر افتخار کے نام پر درجنوں جعلی اکاؤنٹس نا صرف بنے بلکہ ٹوئٹر سرچز پر بھی قبضہ جما بیٹھے۔

 
ان جعلی اکاؤنٹس نے دھڑلے سے نا صرف نئے ڈی جی کا نام اختیار کیا بلکہ اپنے تعارفی سیکشن میں بھی واضح طور پر خود کو پاک فوج کا ترجمان قرار دے ڈالا۔ کچھ نے سابق ڈی جی کے ذاتی اکاؤنٹ کے بائیو کو لفظ بہ لفظ کاپی کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کہ گویا یہ نئے مقرر ہونے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا ذاتی اکاؤنٹ ہے۔

پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان کے طور پر کام کرنے والے ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ  کا تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سوشل نیٹ ورک پر موجود ہے۔ کام کے تسلسل کے طور پر یہی اکاؤنٹ فعال رہنے کی توقع ہے تاہم جعلی اکاؤنٹس بنانے والوں نے یہاں بھی قسمت آزمائی ترک نہیں کی اور نام کے ساتھ عہدہ بھی اختیار کر لیا۔
سوشل نیٹ ورکس ہی نہیں پاکستان سمیت مختلف ممالک کی حکومتیں بھی کوشاں ہیں کہ جعلی شناخت، جعلی اطلاعات اور شناخت کی چوری کے مسائل سے نمٹا جائے۔ اس مقصد کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیکٹ چیک کے پروگراموں پر عمل درآمد کر رہی ہیں تو حکومتی سطحوں پر ریگولیشنز اور دیگر طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان کاوشوں کے باوجود سوشل میڈیا پر معروف شخصیات کے جعلی اکاؤنٹس بنانے والے بلیک ہیٹ تکنیک اپنائے رکھتے ہیں اور نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ ماضی میں پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی سمیت متعدد اہم شخصیات، ٹی وی میزبانوں، کھلاڑیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد کے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔
جعلی اکاؤنٹس سے متعلق لیے گئے مختلف جائزوں میں بتایا جاتا رہا ہے کہ ٹوئٹر پر چار سے 15 فیصد اکاؤنٹس جعلی، پیروڈی یا باٹ اکاؤنٹس ہیں جن کی اکثریت خود کو اصل جیسا بنا کر پیش کرتی ہیں۔
ان جعلی اکاؤنٹس سے پلیٹ فارم کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹوئٹر کی جانب سے گذشتہ دو برسوں کے دوران سات کروڑ سے زائد اکاؤنٹس ختم کیے گئے ہیں۔ تاہم حکومتوں کی یہ شکایت برقرار ہے کہ ان کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کے سدباب کے لیے ٹوئٹر سے کہا جاتا ہے تاہم وہ ایسا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ پاکستان کی وزارت آئی ٹی کی جانب سے بھی چند روز قبل بتایا گیا تھا کہ فیس بک اور ٹوئٹر نے جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کی ان کی درخواست نہیں مانی۔

ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس کیسے پہچانیں؟

سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کی شناخت بھی اتنا ہی دشوار عمل ہے جتنا کسی اطلاع کے صحیح یا غلط ہونے کو پرکھنا، تاہم کسی اکاؤنٹ کے کچھ خاص پہلوؤں کو پرکھ کر ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کون سے اکاؤنٹس جعلی ہیں۔

1۔ ایسے اکاؤنٹس اپنی ڈی پی یا ڈسپلے/پروفائل پکچر کے طور پر ڈیفالٹ امیج یا انٹرنیٹ پر موجود سٹاک فوٹوز استعمال کرتے ہیں۔ ریورس امیج سرچ کے ذریعے اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اصل ہیں یا نہیں۔
2۔ ان اکاؤنٹس کی بائیو (تعارف) نہیں ہو گی یا مبہم انداز میں لکھی گئی ہو گی۔ جعلی اکاؤنٹس کی ٹویٹس/پوسٹس،لائکس اور ری ٹویٹس/شیئرنگ یکساں نوعیت کی ہو گی۔

دوسروں کی شناخت اختیار کرنا ڈیجیٹل دنیا کا مستقل مسئلہ ہے، فوٹو: سوشل میڈیا

3۔ یوزر نیم یا ہینڈلز واضح شناخت رکھنے کے بجائے مبہم انداز کے ہوں گے۔ پنکچویشن کا خیال رکھے بغیر ہر طرح کے حرف اور لفظوں کا استعمال نمایاں ہو گا۔ اکاؤنٹس مخصوص تاریخوں میں بنائے گئے ہوں گے اور ان کی ٹویٹس یا سٹیٹس بھی غیر مربوط ہوں گے۔
4۔ ان اکاؤنٹس کی سرگرمی مستقل نہیں ہو گی بلکہ مخصوص اوقات اور مخصوص موضوعات کے گرد محدود دکھائی دیتی ہے۔ کبھی کبھار جعلی اکاؤنٹس مستقل اپ ڈیٹس بھی ہوتے ہیں تاہم ان کے لہجے اور انداز کا بغور جائزہ لے کر اصل اور نقل کی پہچان کی جا سکتی ہے۔
5۔ مختلف آن لائن سروسز یا ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی بلا معاوضہ یا قیمتاً دستیاب سروسز کے ذریعے بھی جعلی اکاؤنٹس کی شناخت کی جا سکتی ہے۔

شیئر: