پاکستان نے امریکہ کی توقعات پوری کر دیں لیکن ہمارا کیا ہوا؟

شاہ محمود قریشی نے امریکہ سے قبل ایران اور سعودی عرب کا بھی دورہ کیا، فوٹو: اے ایف پی
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورے کے دوران امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ اسلام آباد نے آپ کی مشکل توقعات پوری کی ہیں، پاکستان کی توقعات کی پیش رفت کیا ہے؟
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’انہوں نے 2018 میں امریکی ہم منصب کے دورہ پاکستان کے موقعے پر کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات دوبارہ سے ترتیب دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس پر انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں تو پھر یہ تعلقات براستہ کابل ترتیب دیے جائیں گے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امریکہ نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دو مغویوں کو طالبان کی تحویل سے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’جو توقعات آپ نے ہم سے کی وابستہ کی تھیں وہ آسان نہیں تھیں، وہ مشکل تھیں لیکن ہم نے ان کو نبھا دیا، کچھ ہماری بھی توقعات تھیں، ان پر آپ کی پیش رفت کیا ہے۔‘
کشمیر کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’امریکہ سے ضرور کہوں گا کہ وہ اپنے چشمے کا نمبر تبدیل کر لے۔‘
’ آج قدغن بھارت میں ہے۔ کشمیر میں نماز جمعہ کی اجازت تک نہیں ہے۔‘
ایران امریکہ کشیدگی کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ایران کشیدگی کا خاتمہ چاہتا ہے۔‘
’مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر پاکستان کا مقصد ثالثی نہیں بلکہ کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہے، امن کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے شاہ محمود قریشی کے حوالے سے کہا ہے کہ ’ایران کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔‘
’ وہ جنگ نہیں چاہتے، وہ مزید خون ریزی نہیں چاہتے۔‘

امریکہ میں وزیر خارجہ نے اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کی، فوٹو: وزارت خارجہ

امریکہ نے 3 جنوری کو ایران کے سب سے طاقتور جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا تھا۔
جس کے جواب میں ایران نے دو امریکی اڈوں پر میزائل حملہ کیا تھا۔
خارجہ وزیر شاہ محمود قریشی نے امریکہ اور ایران میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ کیا۔

شیئر: