Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’رواشین پائیدار فنِ تعمیر کا ابتدائی ماڈل‘: ایک مرتبہ پھر متعارف کرانے کی کوششیں

رواشین کو پھر سے متعارف کرانے کی کوششیں کی جاری ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ مکرمہ کے قدیم اور راویتی مقامات اور ان میں سے اکثر گھروں کے باہر دروازوں یا کھڑکیوں پر لگے ’رواشین‘ آج بھی شہر کے بصری اور تعمیری فن کی بنیادی شناخت کے طور پر کئی جگہوں پر قائم و دائم ہیں۔
رواشین دراصل مکہ کے پرانے فنِ تعمیر میں استعمال ہونے والی خاص قسم کی کھڑکیاں یا جالی دار لکڑی کے ڈیزائن ہیں جو عموماً کھڑکیوں کے آگے یا دروازوں کے سامنے لگائے جاتے تھے۔
یہ وہ تاریخی علامتیں ہیں جو بیتی صدیوں کے دوران مکہ کے طرزِ زندگی کا نشان بن کر رہے ہیں اور ایک ایسے شہر میں افراد اور مقامات کے رشتے کو مجسم کرتے ہیں جہاں کی شہری زندگی مذہبی، سماجی اور آب و ہوا کی خصوصیات سے طویل عرصے سے متاثر ہوتی آ رہی ہے۔
ان قدیم عناصر کو محفوظ کرنے، دستاویزی بنانے اور شہری ترقی کے منصوبوں میں ایک مرتبہ پھر سے متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں جو سعودی وژن کے مقاصد کے عین مطابق ہیں۔

عام طور پر یہ رواشین درآمد کی گئی لکڑی سے تیار کیے جاتے تھے (فوٹو: ایس پی اے)

مکہ کے مختلف علاقے اپنی تنگ گلیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں جن سے آب ہوا میں اعتدال پیدا ہوتا ہے، چھاؤں زیادہ رہتی ہے اور شہریوں میں سماجی تال میل بڑھتا ہے۔
لکڑی کے بنے ہوئے رواشین کا رواج مخصوص تعمیری فیچر کے طور پر ہوا جس میں عملی فائدہ اور جمالیات دونوں یکجا ہوگئے۔

مکہ کے کئی تاریخی اضلاع میں رواشین کا فیچر آج بھی بچا ہوا ہے (فوٹو: ایس پی اے)

ان سے نہ صرف روشنی کو مرضی کے مطابق حاصل کیا جا سکتا تھا بلکہ ہوا کی روانی بھی مزاج کے مطابق ہوتی تھی جبکہ پرائیویسی بھی قائم رہتی تھی۔
مکہ کے کئی تاریخی اضلاع میں راویتی تنگ گلیوں اور رواشین کا فیچر آج بھی بچا ہوا ہے۔
ورثے کے فنِ تعمیر کے ماہرین نے تخمینہ لگا کر بتایا ہے کہ مکہ کی 60 فیصد سے زیادہ تاریخی عمارتوں میں لکڑی کے رواشین ہوا کرتے تھے۔
عام طور پر یہ رواشین درآمد کی گئی لکڑی سے تیار کیے جاتے تھے جسے روایتی طریقیوں سے اس قابل بنایا جاتا تھا کہ وہ رواشین کی شکل میں ڈھل سکیں۔

رواشین پائیدار فنِ تعمیر کے ابتدائی ماڈل کی نمائندگی کرتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

اس طرح قدرتی طور پر ہوا کا گزر بہتر ہو جاتا اور گھروں کے اندر درجۂ حرارت کم رہتا۔ ساتھ ساتھ گھروں کے سامنے کے حصوں میں ایک مخصوص بصری خصوصیت کا بھی اضافہ ہو جایا کرتا تھا۔
ماہرین کے مطابق رواشین، پائیدار فنِ تعمیر کے ابتدائی ماڈل کی نمائندگی کرتے ہیں اور آج کل کے دور کے تعمیری منصوبوں میں ان کا واپس آنا ایک قابلِ قدر اضافے سے کم نہیں جس سے شہر کی ماحولیاتی اور بصری شناخت کو تقویت ملتی ہے۔
کچھ عرصے سے مکہ کے اس قدیم طرزِ تعمیر کو پھر سے بحال کرنے کے لیے ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں تربیتی پروگرام، ڈرائنگ، فوٹو گرافی اور بحالی کے طریقے شامل ہیں جس کی وجہ سے اس فن کو سیکھنے اور شہری ورثے میں دلچپسی لینے والے پرفیشنلز کی ایک نئی نسل پیدا ہوگئی ہے۔

 

شیئر: