مکہ مکرمہ کے قدیم اور راویتی مقامات اور ان میں سے اکثر گھروں کے باہر دروازوں یا کھڑکیوں پر لگے ’رواشین‘ آج بھی شہر کے بصری اور تعمیری فن کی بنیادی شناخت کے طور پر کئی جگہوں پر قائم و دائم ہیں۔
رواشین دراصل مکہ کے پرانے فنِ تعمیر میں استعمال ہونے والی خاص قسم کی کھڑکیاں یا جالی دار لکڑی کے ڈیزائن ہیں جو عموماً کھڑکیوں کے آگے یا دروازوں کے سامنے لگائے جاتے تھے۔
مزید پڑھیں
-
مکہ کا قدیم اور منفرد’ قصرکویر‘ لاثانی فن تعمیر کا شاہکارNode ID: 892768
یہ وہ تاریخی علامتیں ہیں جو بیتی صدیوں کے دوران مکہ کے طرزِ زندگی کا نشان بن کر رہے ہیں اور ایک ایسے شہر میں افراد اور مقامات کے رشتے کو مجسم کرتے ہیں جہاں کی شہری زندگی مذہبی، سماجی اور آب و ہوا کی خصوصیات سے طویل عرصے سے متاثر ہوتی آ رہی ہے۔
ان قدیم عناصر کو محفوظ کرنے، دستاویزی بنانے اور شہری ترقی کے منصوبوں میں ایک مرتبہ پھر سے متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں جو سعودی وژن کے مقاصد کے عین مطابق ہیں۔

مکہ کے مختلف علاقے اپنی تنگ گلیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں جن سے آب ہوا میں اعتدال پیدا ہوتا ہے، چھاؤں زیادہ رہتی ہے اور شہریوں میں سماجی تال میل بڑھتا ہے۔
لکڑی کے بنے ہوئے رواشین کا رواج مخصوص تعمیری فیچر کے طور پر ہوا جس میں عملی فائدہ اور جمالیات دونوں یکجا ہوگئے۔

ان سے نہ صرف روشنی کو مرضی کے مطابق حاصل کیا جا سکتا تھا بلکہ ہوا کی روانی بھی مزاج کے مطابق ہوتی تھی جبکہ پرائیویسی بھی قائم رہتی تھی۔
مکہ کے کئی تاریخی اضلاع میں راویتی تنگ گلیوں اور رواشین کا فیچر آج بھی بچا ہوا ہے۔
ورثے کے فنِ تعمیر کے ماہرین نے تخمینہ لگا کر بتایا ہے کہ مکہ کی 60 فیصد سے زیادہ تاریخی عمارتوں میں لکڑی کے رواشین ہوا کرتے تھے۔
عام طور پر یہ رواشین درآمد کی گئی لکڑی سے تیار کیے جاتے تھے جسے روایتی طریقیوں سے اس قابل بنایا جاتا تھا کہ وہ رواشین کی شکل میں ڈھل سکیں۔












