’بری صحبت کا شکار ہوئی، اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھایا گیا‘

کنگنا نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں بدترین تجربے سامنا کیا، فوٹو: سوشل میڈیا
بالی وڈ ’کوئین‘ اداکارہ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ ’جب وہ 20 برس کی تھیں تب شادی کر کے فیملی بنانا چاہتی تھیں اور سوچتی تھیں کہ ان کے اپنے لوگ ان کی زندگی کو مکمل کر دیں گے۔‘
ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’وقت کے ساتھ معلوم ہوا کہ وہ درست خواہش نہیں تھی اور اب بیوی اور ماں بننے کو ضروری نہیں سمجھتی۔ ایک ایسے مرحلے میں ہوں کہ جہاں اپنی زندگی سے لطف اٹھانا شروع کیا ہے۔‘

کنگنا رناوت کے مطابق ان کی فلم پنگا انڈیا کے یوم جمہوریہ پر ریلیز ہو گی، فوٹو: سوشل میڈیا

اپنے آنے والی فلم ’پنگا‘ اور بالی وڈ میں کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کنگنا رناوت نے کہا کہ ’یہ کوئی ایسا مشکل بھی نہ تھا کیونکہ 15 برس کی عمر میں گھر چھوڑ کر خودمختار زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میں خطرے مول سکتی ہوں اور خود کو یہ بتاتی ہوں کہ بدترین چیز ناکامی اور اس کے نتائج ہی ہو سکتے ہیں جس کے لیے تیار ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’خوش قسمتی سے اب ان کا خاندان واپس ان کے ساتھ ہے۔‘

 

کنگنا سے پوچھا گیا کہ اب ان کی اپنی پروڈکشن کمپنی ہے تو کیا وہ سفارش کلچر اور اقربا پروری کے خاتمے کے لیے کچھ کریں گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ’اقربا پروری میرے خیال میں اس بنیاد پر سمجھی جاتی ہے کہ باصلاحیت لوگوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو اہلیت یا صلاحیت نہیں رکھتے ان کو موقع دیا جائے۔ ہمیشہ ان افراد کو موقع دوں گی جو کام کے لیے بہترین ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پنگا‘ بھی انڈیا کے یوم جمہوریہ پر ریلیز کی جائے گی کیونکہ یہ دن ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث بنا ہے اور گذشتہ برس ان کی فلم ’مانیکارنیکا‘ بھی اسی دن سینما کی زینت بنی تھی۔
کنگنا نے فلم میں اپنے کردار کے بارے میں بتایا کہ ’ایک 30 برس کی کھلاڑی جو ایک بچے کی ماں بھی ہے اپنے کیریئر اور گھر دونوں کو ایک ساتھ کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے۔‘

بالی وڈ کوئین کہتی ہیں کہ مشکلات نے انہیں مضبوط انسان بنا دیا، فوٹو: انسٹاگرام

ایک سوال پر کنگنا رناوت نے کہا کہ ’میں بری صحبت میں گھر گئی تھی اور کچھ لوگوں نے میرے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھایا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے بدترین تجربے سامنا کیا جتنا کہ کوئی ایک انسان کر سکتا ہے، تاہم اس بات نے مجھے اتنا مضبوط انسان بنا دیا جتنی کہ میں آج ہوں۔‘
’میں نہیں چاہوں گی کہ میرے بچے اس طرح کی انتہائی صورت حال کا سامنا کریں۔‘

شیئر: