’حکومت کو سنے بغیر شہریت قانون کو معطل نہیں کر سکتے‘

اٹارنی جنرل نے حکومت کا تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) پر مرکزی حکومت کا مؤقف سنے بغیر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری نہیں کرے گی۔
بدھ کو انڈیا کی سپریم کورٹ نے شہریت کے نئے قانون پر عمل درآمد روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ عدالت میں اٹارنی جنرل نے جواب دینے کے لیے مہلت طلب کی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ دسمبر میں شہریت کے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی پہلی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا شرد اروند بوبڈے نے حکومت کو زبانی حکم بھی جاری کیا کہ وہ اس قانون میں ترمیم کی وجہ بھی عام کرے تاکہ عوام میں اس کے مقاصد سے متعلق خدشات دور ہوں۔

 

گذشتہ سماعت پر عدالت میں دائر درخواستوں پر بیک وقت کئی وکلا کی جانب سے دلائل دیے جا رہے تھے۔
اس پر حکومت کے وکیل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ ’میں پاکستان کی سپریم کورٹ گیا تھا۔ وہاں ایک روسٹرم ہوتا ہے جہاں صرف ایک وکیل بینچ سے مخاطب ہوتا ہے۔۔۔ہمارے پاس بھی ایسا کچھ ہونا چاہیے۔‘
واضح رہے کہ 60 سے زائد درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ قانون آئین کی روح سے متصادم ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں