دہلی انتخابات یا انڈیا پاکستان کرکٹ میچ؟

انتخابی مہم میں شاہین باغ، پاکستان اور بریانی جیسے موضوعات زیر بحث رہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا میں دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے رجحانات جوں جوں سامنے آنے لگے اور عام آدمی پارٹی کی حکومت بنتی ہوئی نظر آنے لگی تو لوگ انتخابی مہم کے دوران منافرت کی بیان بازیوں کو یاد کرنے لگے۔
بی جے پی کے ایک رہنما نے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ ’آٹھ تاریخ کو انڈیا پاکستان کا دہلی میں مقابلہ ہے‘ اور بی جے پی کے تمام رہنماؤں نے قوم پرستی کو اہم انتخابی نعرہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے تو اتنی اشتعال انگیز تقاریر کی تھیں کہ الیکشن کمیشن نے ان کو انتخابی مہم میں شرکت کرنے سے روک دیا تھا۔
بی جے پی کی انتخابی مہم نے دہلی کے انتخابات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے کیجریوال کو ذاتی طور پر نشانہ بنایا اور انہیں دہشت گردوں کے حامی یہاں تک کہ دہشت گرد بھی قرار دیا اور شاہین باغ میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف جاری مظاہرے کو مرکزی مسئلہ بنا کر پیش کیا۔
دہلی کی انتخابی مہم میں قوم پرستی، غدار وطن، دہشت گرد، شاہین باغ، پاکستان، مسلمان اور بریانی جیسے موضوعات پر مباحثے نظر آئے۔
اب جبکہ نتائج تقریباً واضح ہو گئے ہیں سوشل میڈیا پر اس سوال کی باز گشت سانئی دینے لگی کہ انڈیا - پاکستان کے میچ کا نتیجہ کیا رہا۔
عام آدمی پارٹی کے ترجمان سنجے سنگھ نے مختلف میڈیا چینلوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیت انڈیا کی ہوئی ہے۔ اگر ان کی یہ بات سچ ہے تو پھر یہ واضح ہے کہ پاکستان کون ہے۔
ذیشان علی نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کپل مشرا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’انڈیا جیت گیا اور اب تم پاکستانی ہو اس لیے پاکستان جاؤ میں تمہارے لیے بزنس کلاس کا ٹکٹ بک کرا دیتا ہوں۔‘
عام آدمی پارٹی کے ترجمان سنجے سنگھ نے ایک ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ دہلی کے دو کروڑ عوام نے بتا دیا کہ ان کا بیٹا اروند کیجریوال دہشتگرد نہیں کٹر وطن پرست ہے۔ زبردست اکثریت سے جیت دلانے کے لیے دلی کے عوام کو سر جھکا کر سو سو بار سلام۔'
کچھ صارفین نے لکھا کہ بہت دکھ کی بات ہے کہ بریانی اور پاکستان جیت گیا۔
اس کے علاوہ دو ہیش ٹیگ انتخاب کے تعلق سے مزید ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہے ’کمل پھٹ گیا دلی میں‘ اور دوسرا ’مودی ہارا شاہین باغ جیتا‘ ہے۔
انتخابات سے پہلے یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمل پر بٹن اتنے زور سے دباؤ کہ کرنٹ شاہین باغ تک پہنچے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کو خود ہی کرنٹ لگ گیا۔
واٹس ایپ پر یہ پیغام بھی گردش کرہا ہے کہ ’کیجریوال نے کچھ کام نہیں کیا‘ بس اتنی سی بات بتانے کے لیے ایک وزیر اعظم، 11 وزیر اعلی، 200 رکن پارلیمان اور ایک وزیر داخلہ کو لگنا پڑا‘ لیکن نتیجے بتاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو یہ بتانے میں ناکام رہے اور کیجریوال نے یہ ثابت کر دیا کہ مثبت مہم کے طفیل کے بھی انتخابات جیتے جا سکتے ہیں۔

شیئر: