دلہن کے لیے حق مہر میں آئین کی کاپی

کیرالہ میں دلہن کو عام طور پر مہر میں سونے کے زیورات یا پھر نقد رقم دی جاتی ہے (فوٹو:اے ایف پی)
گذشتہ دنوں انڈیا میں دہلی کے اسمبلی انتخابات اور اس کے نتائج کے ساتھ شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مظاہرے سرخیوں میں رہے وہیں چند ایسی بھی خبریں تھیں جو دلچسپیوں سے خالی نہیں۔ آئیے ایسی ہی چند خبروں پر نظر ڈالتے ہیں:
شادی سب کے لیے ایک یادگار موقع ہوتا ہے۔
گذشتہ دنوں انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک شادی ایسی ہوئی جہاں دولہا گھوڑے کے بجائے اونٹنی پر سوار تھا اور ہاتھ میں رومال کے بجائے ایک پلے کارڈ تھا جس میں شہریت کے متنازع قانون کو مسترد کرنے کی بات لکھی ہوئی تھی۔ 
خبر رساں ادارے آئی اے این ایس کے مطابق حاجا حسین کی شادی میں زیادہ تر ان کے دوست اور رشتے دار شامل تھے اور انہوں نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا اس پر لکھا تھا: ’سی اے اے کو مسترد کرتے ہیں، این آر سی اور این پی آر کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔‘
بات بس اتنی ہی نہیں ہے بلکہ انہوں نے بتایا کہ مہر کے طور پر انہوں نے اپنی دلہن کو انڈیا کے آئین کی ایک کاپی بھی دی ہے۔ خیال رہے کہ کیرالہ میں دلہن کو عام طور پر مہر میں سونے کے زیورات یا پھر نقد رقم دی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کے متعلق لوگ طرح طرح کی بات کر رہے ہیں۔ قاضی خدیجہ نامی ایک صارف نے لکھا: واہ رے دولہے ۔۔ ۔ تو تو بہت سمارٹ ہے۔'

 

اب جب شادی میں اس قدر تنوع ہو تو پھر چوری میں کیوں نہیں۔ شاید سب سے زیادہ ذہن کا استعمال لوگ چوری میں کرتے ہیں اور نہ پکڑے جانے کے لیے نہ جانے کتنے جتن کرتے ہیں۔

مونگ پھلیوں میں چھپائے گئے کرنسی نوٹ

حال ہی میں مونگ پھلیوں میں دانے کی جگہ بیرونی ممالک کے کرنسی نوٹ نظر آئے۔

یہ کرنسی نوٹ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پکڑے گئے (فوٹو:این ڈی ٹی وی)

انڈیا کے خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بدھ کے روز سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس نے پکے ہوئے کوفتوں، مونگ پھلیوں اور مہربند بسکٹ کے ڈبوں سے 45 لاکھ روپے کی مالیت کے بیرونی کرنسی نوٹ پکڑے۔
حکام کے مطابق 508 کڑے کڑے نوٹ ان کھانے کی اشیا میں سے برآمد کیے گئے۔ ان کے مطابق ایک 25 سالہ شخص کو اس کے ’مشتبہ سلوک‘ کی بنیاد پر دارالحکومت دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پکڑا گیا۔ وہ ایئر انڈیا کی فلائٹ سے دبئی جا رہا تھا۔

’تیار رہیے جونیئر‘

کچھ لوگ چھپنے کے لیے جتن کرتے ہیں اور کچھ لوگ نظر میں آنے کے لیے۔ دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی جیت کے جشن میں ایک شخص نے اپنے چار یا پانچ سال کے ایک بچے کو وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال کے روپ میں سجایا۔
اس بچے کی تصویر ان دنوں وائرل ہے اور عام آدمی پارٹی نے یہ اعلان کیا ہے کہ 16 تاریخ کو جب نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب ہوگی تو اس بچے کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
عام آدمی پارٹی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا: ’بڑا اعلان ۔ ننھے مفلر مین کو اروند کیجریوال کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔ تیار رہیے جونیئر۔‘
یہ تصویر انڈین ایکسپریس کے فوٹوگرافر تاشی توبگیال نے لی تھی اور بہت سے لوگوں نے اس تصویر کا استعمال عام آدمی پارٹی کو مبارکباد دینے کے طور پر کیا ہے۔
بچے کے والدین کے انٹرویوز لیے گئے تو پتہ چلا کہ انہوں نے اس سے قبل 2015 میں اپنی بیٹی کو اسی طرح سجایا تھا۔
واضح رہے کہ اروند کیجریوال 16 فروری کو تیسری بار دہلی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے۔

پانی کی جگہ شراب

ایک عجیب خبر انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ سے گشت کر رہی ہے اور یہ خبر ہے کہ ایک علاقے کے درجنوں گھروں میں اچانک نل سے پانی کی جگہ شراب آنے لگی۔
یہ واقعہ کیرالہ کے تھریسسور ضلعے کا ہے اور مقامی اخبار منورما میں شائع خبر کے مطابق سرکاری بس سٹینڈ کے پاس چلاکنڈی میں رہنے والے رہائیشیوں نے شکایت کی کہ ان کے گھروں میں جو پانی آ رہا ہے اس کا ذائقہ شراب کی طرح ہے۔

رہائیشیوں نے پانی کے ذائقے کے بارے میں محکمے کو شکایت کی تھی (فوٹو:اے ایف پی)

بعد میں اس کی یہ وجہ سامنے آئی کہ اکسائز محکمے نے تقریبا چھ ہزار لیٹر غیر قانونی شراب پکڑی تھی جسے گذشتہ کئی برسوں سے وہاں رکھا ہوا تھا اور حال ہی میں محکمے نے یہ فیصلہ کیا کہ ان شراب کی بوتلوں کو ضائع کر دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ان لوگوں اس علاقے میں ایک بڑا سا گڑھا کھود کر تقریباً دو ہزار بوتلوں کو اس میں ڈال دیا۔ انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ گھڑے کے پاس سے پانی کا پائپ لائن گزرتا ہے۔ شراب ٹوٹی بوتلوں سے بہہ کر ٹوٹی ہوئی پائپ لائن سے فلیٹوں میں جانے لگی اور کئی دنوں تک پانی سے شراب کی بو آتی رہی۔
اردو کے معروف شاعر جگر مراد آبادی نے شاید کسی ایسے ہی موقعے پر یہ شعر کہا ہوگا۔
اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

شیئر: