Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب پولیس سوشل میڈیا پر متحرک

پنجاب پولیس ٹوئٹر پر کی گئی شکایات کا فوراً جواب دیتی ہے۔ فوٹو: فیس بک
یقیناً میں اکیلا نہیں ہوں گا جس نے سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر پر پولیس کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے اکاوئنٹس پر ایسی ڈھیر ساری خبریں نہیں دیکھی ہوں گی جن میں مختلف جرائم کرنے والے ملزمان کے خلاف کاروائی کی جاتی نظر آ رہی ہوتی ہے۔
حال ہی میں مظفر گڑھ کے واقعے کو لے لیں جیسے ہی کسی اکاؤنٹ سے یہ ویڈیو اپ لوڈ کی گئی اس کے تھوڑی دیر بعد پنجاب پولیس کے مختلف ٹوئٹر اکاوئنٹس سے یہ اطلاع دی گئی کہ چھوٹے بچوں کو جنسی طور ہراساں کرنے والے اس ملزم کو پکڑ لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر اس ویڈیو میں نظر آ رہا ہے۔
اسی طرح لوگوں کی یاداشت میں ابھی تک یہ بھی محفوظ ہو گا کہ کورونا کے حوالے سے مشہور ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر کی گرفتاری پر پولیس کے ٹوئٹر اکاوئنٹس سے ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیے گئے۔ جس سے یہ تاثر اور مضبوط ہو جاتا ہے کہ پنجاب پولیس سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو کو نہ صرف سنجیدہ لیتی ہے بلکہ انصاف کے عمل کو شروع کرنے بھی غیر معمولی تیزی دکھاتی ہے۔
کچھ غور کرنے پر آپ کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ بہت سارے پولیس افسران نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاوئنٹس بھی بنا رکھے ہیں جہاں وہ اپنے محکمے کی کارکردگی کی خبریں وقتاً فوقتاً شائع کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو جواب بھی دیتے ہیں۔

پنجاب پولیس کا سوشل میڈیا ونگ

پنجاب پولیس کا سوشل میڈیا ونگ دو طرح سے کام کرتا ہے۔ ایک تو سوشل میڈیا اکاوئنٹس سے روایتی مواد شائع کیا جاتا ہے جو پولیس کا امیج بہتر رکھنے کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔ دوسرا عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے نہ صرف وائرل ہونے والی قانونی خلاف ورزیوں پر فوری رد عمل دیا جاتا ہے بلکہ عام شہریوں کی ٹوئٹر شکایات پر بھی فوری تسلی دی جاتی ہے، اور ایسا سب سے زیادہ ٹوئٹر پر ہوتا ہے۔

پنجاب پولیس کے کئی افسران نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاوئنٹس بھی بنا رکھے ہیں۔ فوٹو: فیس بک

ڈی آئی جی آپریشن لاہور پولیس رائے بابر سعید نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا عوام سے تیز ترین رابطے کا ذریعہ بن چکا ہے اس لیے پولیس بھی اس کے ذریعے جلدی شکایات کے حل کی کوشش کرتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر کے پلیٹ فارم پر پولیس کچھ زیادہ ہی متحرک ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ٹوئٹر کا پلیٹ فارم سب سے زیادہ موثر ہے ایک تو اس پر خبر سب سے پہلے اور تیزی سے سرایت کرتی ہے اورشکایت کنندہ تک پہنچنا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ بڑی سے بڑی بات بھی لوگ کسی کو بتانے سے پہلے ٹویٹ کر دیتے ہیں اس لیے محکمے میں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں سوشل میڈیا ٹیمز ہیں جو ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارمز پر نظر رکھتی ہیں جیسے کوئی ایسی صورت حال سامنے آتی ہے جس پر فوری کارروائی مقصود ہو تو متعلقہ پولیس افسران کو الرٹ کر دیا جاتا ہے اور معاملہ جلد حل ہو جاتا ہے۔

پولیس کی ٹوئٹر پر پھرتیوں کی وجہ

پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کے چیف ایگزیکٹو شہزاد احمد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ پولیس کے نظام میں کوئی خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ ٹوئٹر پر فوری ردعمل دراصل اس پلیٹ فارم کی اپنی ہیئت کی وجہ سے ہے۔ ٹوئٹر پر سب سے طاقتور لوگ کون ہیں، وہی ہیں جن کے فالوورز سب سے زیادہ ہیں ان میں سیاستدان، صحافی اور سیلبیرٹیز ہیں اور لوگ ٹویٹ کرنے میں ایسے افراد کو ٹیگ کر دیتے ہیں جس سے چھوٹی سی بات بھی چند منٹوں میں شور کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔‘

پولیس ٹوئٹر پر متحرک ہونے کے باوجود تھانہ کلچر نہیں تبدیل کر سکی۔ فوٹو: اے ایف پی

شہزاد احمد نے کہا کہ ’پاکستان میں فیس بک سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے لیکن چونکہ فیس بک پر بات کے پھیلنے کا اپنا طریقہ کار ہے اور قدرے سست ہے اس لیے اس پر لکھی گئی بات کی وہ اہمیت نہیں ہوتی جو ٹوئٹر پر ہے۔ وہاں وزیراعظم سے لے کر ہر حکومتی مشنری کے لوگ موجود ہیں اس لئے بھی پولیس کے لیے ان شکایات کو سنجیدہ لینا مجبوری بن جاتا ہے کیونکہ ٹوئٹر بہرحال اشرافیہ کا پلیٹ فارم ہے۔‘
سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر پر فوری ردعمل اپنی جگہ لیکن ’تھانہ کلچر‘ پر اس کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔ مارچ کے وسط میں پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس نے 72 فیصد ایسے مقدمات درج کرنے سے گریز کیا تھا جن میں متاثرین نے پولیس سے براہ راست رجوع کیا اور ان کی شکایات قانونی تھیں۔
رپورٹ میں جنوری 2020 سے مارچ 2020 کے وسط تک کا ڈیٹا شائع کیا جس کے مطابق اس دوران پولیس کو9881 شکایت موصول ہوئیں جن میں سے 2163 پر مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ میں پولیس کی جانب سے اعدادو شمار میں جان بوجھ کر کمی کرنے کا الزام لگایا گیا تاکہ جرائم کی شرح زیادہ ظاہر نہ ہو۔ تاہم اس رپورٹ پر لاہور پولیس نے کسی بھی قسم کا رد عمل نہیں دیا تھا۔ 

پاکستانیوں کا ٹوئٹر استعمال 

پولیس کا یہ موقف اپنی جگہ درست ہے کہ سوشل میڈیا خاص طورپر ٹوئٹر پر لوگوں کی شکایات کا فوری ازالہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ یہ تیز ترین ابلاغی ذریعہ ہے تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو ٹوئٹر کو صحیح معنوں میں استعمال کرنا جانتے ہیں؟

پاکستان کے کل سوشل میڈیا صارفین میں سے3.9 فیصد ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔ فوٹو: ٹیک جوس

ڈیٹا روپورٹل نامی ویب سائٹ جو دنیا بھر کے ممالک میں موبائل فون کے استعمال اور سوشل میڈیا کے اعداد و شمار پر نظر رکھتی ہے، کی 2020 میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل سوشل میڈیا صارفین کی تعداد تین کروڑ 70 لاکھ ہے جو کہ کل آبادی کا سترہ فی صد ہے۔
اسی طرح سٹیٹ کاوئنٹر نامی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کے کل سوشل میڈیا صارفین میں سے 92.67 فیصد فیس بک جبکہ 3.9 فیصد ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان کے معروف صحافی امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ’وقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی نے لوگوں کو انفرادی طور پر مضبوط کیا ہے اور اسی ارتقائی عمل کے ذریعے بالآخر مکمل جمہوری حقوق بھی لوگوں کو ملیں گے، آج سے دس سال پہلے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ ایک ٹویٹ پولیس والوں کی دوڑیں لگوا سکتی ہے لیکن اب یہ ہو رہا ہے۔ اور جیسے جیسے لوگ شعور حاصل کریں گے ویسے ہی نظام کی طاقت لوگوں میں منتقل کرنا مجبوری بن جائے گی۔‘

شیئر:

متعلقہ خبریں