Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قطر کا 12 قیدیوں میں کورونا وائرس پائے جانے کا اعتراف

چھ غیرملکی قیدیوں نے ہیومن رائٹس واچ کو جیل کی حالت کے بارے میں بتایا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے قطر کی جیلوں میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی وارننگ کے بعد قطر نے تسلیم کر لیا ہے کہ ایک جیل میں کورونا وائرس کے 12 کیسز سامنے آئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور مضرصحت حالات کے باعث دوحہ سنٹرل جیل میں صورت حال بدترین ہو چکی ہے۔
کئی قیدیوں کے وائرس کا شکار ہونے کے بعد چھ غیرملکی قیدیوں نے ہیومن رائٹس واچ کو صورت حال کے بارے میں بتایا تھا۔

 

ہیومن رائٹس واچ نے قطر پر زور دیا تھا کہ جیل میں تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ، قیدیوں کو مناسب طبی امداد کی فراہمی اور ماسکس، سینیٹائزرز اور دستانے دیے جائیں۔
’قطری حکام کو کورونا کے وسیع پھیلاؤ سے بچنے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے کیونکہ اس سے قیدیوں، عملے اور دوحہ کے رہائشیوں تک کے وائرس کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔‘
ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر مائیکل پیج کی تجویز تھی کہ ’قطر ان قیدیوں کو چھوڑ سکتا ہے جو بیماری کا آسان شکار ہو سکتے ہیں جیسے بزرگ افراد یا پھر جنہوں نے معمولی نوعیت کے جرائم کیے ہیں جبکہ دیگر بچ جانے والے قیدیوں کو مناسب طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔‘
قطر اس سے قبل بھی کم آمدن والے غیر ملکی کارکنوں کو کورونا وبا کے مقابلے میں بے  سہارا چھوڑنے پر سخت تنقید کی زد میں آ چکا ہے اب ایسی ہی صورت حال ملک کی بڑی جیل میں ہے جہاں حکام بیماری سے نمٹنے میں غلفت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

نئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال قید اور 55 ہزار ڈالرز تک جرمانہ ہوگا (فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے کہ قطر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 34 کے قریب ہے جو 27 لاکھ کی آبادی کا 1.2 فیصد بنتا ہے۔ تاہم ہلاکتوں کی تعداد صرف 15 ہے۔
قطر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اتوار سے پبلک مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال قید اور 55 ہزار ڈالرز تک جرمانے جیسی سخت ترین سزائیں دی جائیں گی، ماسک نہ پہننے پر دی یہ جانے والی یہ دنیا کی سخت ترین سزا ہے۔
جمعے سے گھروں سے نکلنے والے افراد کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز پر ’کونٹیکٹ ٹریسنگ‘ ایپ انسٹال کریں۔

شیئر: