Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا ونسٹن چرچل بھی نسل پرست تھے؟

ونسٹن چرچل کے مجسمے کو مظاہرین دو بار نشانہ بنا چکے ہیں (فوٹو سوشل میڈیا)
جنگ میں شکست کے دھانے پر کھڑے ملک کو فاتح بنانے پر متعدد کتابوں، فلموں سمیت بار بار گفتگو کا حصہ بننے والے ’ونسٹن چرچل نسل پرست تھے‘۔ ’بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے تحت ہونے والے احتجاج کے دوران لندن میں نصب سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے پر یہ الفاظ تحریر کیے گئے تو فوجی افسر رہنے کے بعد میدان سیاست کا رخ کرنے والے سابق برطانوی وزیراعظم ایک بار پھر گفتگو کا موضوع بن گئے۔
30 نومبر 1874 کو بینہیم پیلس، آکسفورڈشائر میں پیدا ہونے اور 24 جنوری 1965 کو لندن میں انتقال کرنے والے ونسٹن لیونرڈ سپینسر چرچل نے کم و بیش دس برس تک برطانیہ کی وزارت عظمی سنبھالے رکھی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ 1940 سے 1945 کے دوران دوسری جنگ عظیم میں اپنے ملک کو فاتح بنانے کا کریڈٹ پانے والے ونسٹن چرچل کسی تنازعے کا موضوع بنے ہوں۔
مغرب میں فوجی اور پھر سیاسی ہیرو کا درجہ رکھنے والے ونسٹن چرچل کو برصغیر میں خاصا بڑا طبقہ جنگ مالاکنڈ اور 1943 کے قحط بنگال اور اس میں ہوئے جانی نقصان کے حوالے سے یاد رکھتا ہے۔ مشرق وسطی میں اسرائیل کے قیام سے متعلق ان کا کردار اور دیگر اقدامات بھی موضوع گفتگو رہتے ہیں۔
موجودہ بنگلہ دیش اور بنگال میں قحط سے متعلق رپورٹس میں 21 تا 30 لاکھ اموات اور مزید لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا کہا جاتا ہے۔ یہ وہی عرصہ ہے جس میں ونسٹن چرچل پہلی مرتبہ برطانیہ کے وزیراعظم منتخب کیے گئے تھے اور وہ روس، امریکہ و برطانیہ پر مشتمل اتحاد کے ذریعے جرمنی سے لڑ رہے تھے۔

حال ہی میں ہوئے احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے لندن کے پارلیمنٹ سکوائر پر نصب چرچل کے مجسمے پر مارکر سے ان کے نام ’چرچل‘ کے ساتھ ’نسل پرست ہیں‘ کا اضافہ کیا گیا تو ساتھ ہی ایک سٹیکر پر ’بلیک لائیوز میٹر‘ کا نعرہ بھی لکھا گیا تھا۔
اس واقعے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر آئیں تو بہت سے صارفین نے سابق برطانوی وزیراعظم کی نسل پرستی کو اپنا موضوع بنایا۔

سوشل میڈیا پر موضوع گفتگو بننے کے بعد چرچل کے وزارت عظمی کے دور کے مختلف اقدامات کے ساتھ ساتھ ان کے بیانات اور اقوال بھی صارفین کی جانب سے شیئر کیے جاتے رہے۔ ایسا کرنے والوں کا موقف تھا کہ اگر آپ چرچل کو جنگی ہیرو مانتے ہیں تو آپ کو ان کے خیالات، عزائم اور دیگر کاموں کو بھی ماننا ہو گا۔

کچھ صارفین نے چرچل کے مجسمے سے ہونے والے سلوک پر دبے لفظوں تنقید کی تو انہیں دیگر کی جانب سے تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔

انڈین صحافی ابھیجیت مجمدر کو اپنے تبصرے پر تنقید کے بعد یہ وضاحت کرنا پڑی کہ وہ چرچل کے دیگر کاموں پر تبصرہ نہیں کر رہے۔ انہوں نے لکھا چرچل نے برطانیہ میں اپنی قوم کے لیے جو کیا اس پر مجسمے کی بے حرمتی نہیں بنتی البتہ ہمارے ہاں جو ہوا اس پر ایسا ہو سکتا ہے‘۔

سابق فٹبالر اور موجودہ مبصر جون بارنس نے چرچل کی حمایت و مخالفت میں جاری گفتگو پر تبصرہ کیا تو ان کے حامیوں کو سخت سنائیں۔ اپنی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا ’سفید فام معاشرہ کیسے (ایڈورڈ) کولسٹن کا (برطانیہ میں) مجمسہ گرانے کی حمایت کرتا ہے البتہ چرچل کی نہیں کرتا۔ کون نسل پرستی کے متعلق جانبدار ہے۔۔۔میں انہیں کہوں۔۔۔پنڈورا باکس نہ کھولیں۔۔۔جو سامنے آیا وہ آپ کو حیران کر دے گا‘۔

انڈین سیاستدان ششی تھرور کی چرچل سے متعلق گفتگو اور بنگال کے قحط کے تذکرے پر مبنی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین دوسروں کو سابق برطانوی وزیراعظم سے متعلق حقائق جاننے کے لیے مدعو کرتے رہے۔
اپنے عرصہ سیاست اور اس سے قبل فوج میں ادا کیے گئے عملی کردار کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں الگ الگ حیثیت رکھنے والے چرچل کے حامی بھی خاموش نہیں رہے۔

برطانوی صارف آئنز سٹیپمین نے چرچل کے مجسمے پر لکھی تحریر پر تبصرے میں لکھا ’چرچل نے دنیا کو حقیقی فاشسٹس سے بچایا‘۔

انگلش کی تدریس سے وابستہ رچرڈ کے منرو نامی ہینڈل نے چرچل کے مجسمے سے کیے گئے معاملے پر تبصرے میں لکھا ’میں اپنے ہیروز پر حملے ہوتے دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا‘۔

اٹھارویں صدی میں فرانس کے خلاف جنگ لڑنے اور مارلبورو کے پہلے ڈیوک کا اعزاز پانے والے جوہن چرچل کا پوتا، اور نیویارک میں گھوڑوں کی ریس کے اہم نام لیونارڈ ڈبلیو جیروم کا نواسہ ہونے کے ناطے چرچل انیسویں صدی کے متمول گھرانوں میں سے ایک کے ہاں پیدا ہو ئے تھے۔
بیسویں صدی کی ابتدا میں برطانوی ہاؤس آف کامن کا حصہ بن کر سیاسی زندگی اپنانے والے چرچل 90 برس کی عمر پا کر 1965 میں انتقال کرنے تک اس ایوان کا حصہ رہے۔ اس دوران وہ خزانہ، داخلہ سمیت وزارت عظمی کے مناصب پر فائز رہے۔
کنزرویٹو پارٹی اور لبرل پارٹی کا حصہ رہنے والے چرچل متعدد کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ پہلی اور دوسری جنگ عظیم سمیت جنگ اٹلانٹک، قاہرہ کانفرنس، معاہدہ پوسٹ ڈیم اور گیلی پولی مہم اور لٹریچر کے نوبل پرائز کے فاتح کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔
متحدہ ہندوستان کی برطانوی حکمرانی سے آزادی کے موقع پر ونسٹن چرچل ان افراد کا حصہ تھے جو اس معاملے کے مخالف شمار کیے جاتے تھے۔ ان سے منسوب ایسے ہی ایک بیان میں وہ کہتے ہیں کہ ’ایک نیم برہنہ وکیل کا (گاندھی) وائس ریگل پیلس کی سیڑھیوں پر کھڑا ہو کر خود کو بادشاہ (برطانوی) کے نمائندوں سے یکساں شرائط پر مصالحت کرنا تشویشناک ہے‘۔

شیئر: