Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’قتل آوارہ کتوں کے مسئلے کا حل نہیں‘

اگر آپ رات کو پیدل، سائیکل یا موٹر سائیکل پر باہر نکلیں تو آپ کو گلی میں آوارہ کتوں کے ایک غول سے مقابلہ کرنا پڑے گا جو اس وقت تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا جب تک آپ بھاگ نہ جائیں یا کسی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے ان کو بھگا نہ دیں۔
 کچھ آوارہ کتے تو گاڑیوں کے پیچھے بھی اس وقت تک بھاگتے رہتے ہیں جب تک انہیں کوئی دوسری گاڑی پیچھے بھاگنے کو نہیں ملتی۔
ان میں سے کچھ تو بھونک کر یا پیچھے بھاگ کر خاموش ہوجاتے ہیں لیکن کچھ خونخوار بھی ہوتے ہیں جو آئے روز راہ چلتے لوگوں کو کاٹ لیتے ہیں۔ ان آوارہ کتوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں، بالخصوص بچوں کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ 

 

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد کو کتوں کے کاٹنے کے باعث ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جن میں سے اکثر گلی محلوں میں پھرنے والے ان آوارہ کتوں کا شکار بنتے ہیں۔
پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں آوارہ کتوں کی بہتات نے اس مسئلے کو ایک ’قومی مسئلہ‘ بنا دیا ہے۔
صرف صوبہ سندھ میں گذشتہ 10 ماہ کے دوران کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شہری حکومتیں وقتا فوقتا آوارہ کتوں کے تدارک کے لیے اقدامات کرتی رہتی ہیں جو کتوں کے قتل عام کی مہم سے زیادہ کچھ نہیں۔
 دوسری طرف جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد میں آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے اس طریقے پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔  
اعداد و شمار کے مطابق کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ہر سال  50 ہزار سے زائد کتوں کو مار دیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال یعنی 2019  کی دوسری ششماہی میں  کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تیزی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے حکومت کی ’کتا مارمہم‘ میں مزید شدت آئی۔

گزشتہ 10 ماہ میں اب تک صرف صوبہ سندھ میں 53 ہزار کتوں کو ہلاک کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

 صرف دسمبرکے مہینے میں کراچی میں 35 ہزار کتوں کو مارا گیا۔ اس مہم کے لیے شہری انتظامی اداروں کو تقریباً آٹھ کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے تھے۔
اس مہم کے تحت گزشتہ 10 ماہ میں اب تک صوبہ سندھ میں  53 ہزار کتوں کو ہلاک کیا گیا۔ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپور خاص جیسے شہروں میں بھی کتا مار مہم چلا کر ہزاروں کتوں کو مارا گیا۔
شہریوں کی جانب سے وزیراعظم شکایات پورٹل پر آوارہ کتوں کی بہتات کے بارے میں درجنوں شکایات کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اس نوعیت کی ایک مہم چلائی گئی اوریومیہ 15 کتوں کو مارا گیا۔
پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق شہر میں اب بھی آوارہ کتوں کی تعداد کم از کم سات ہزار ہے اور حکام شہریوں کو ان سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ 
کتوں کو مارنا درست ہے یا بچانا؟
اگرچہ ان مہمات کے باوجود شہروں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی، لیکن جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں پاکستان کے مختلف شہروں میں کتوں کو تلف کرنے کے ان طریقوں سے مطمئن نہیں ہیں اور اس حوالے سے وقتا فوقتا احتجاج ریکارڈ کرواتی رہتی ہیں۔
 پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی کی سربراہ ماہرہ عمر کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کو قتل کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے اور بہت سے ملکوں میں اس اقدام پر سزا دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق کتوں کی بڑھتی تعداد کو قابو کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ان کی ویکسینیشن کر کے ان کی افزائش نسل روک دی جائے۔

قانون کے تحت جانور کو قتل یا نقصان پہنچانے والوں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

 ’کتوں کو مارنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دیگر ممالک یہ آزما چکے ہیں۔ اس مسئلے کا دیرپا حل نکالنا نہایت ضروری ہے جس کے لیے مقصدیت پر مبنی قانون سازی کی ضرورت ہے۔‘
تاہم بلدیاتی اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ’کتا مار مہم‘ شہریوں کے تحفظ کے لیے دیے گئے ان اختیارات کے تحت چلاتے ہیں جن کے ذریعے وہ شہر میں ایسے جانوروں کو مار سکتے ہیں جن سے لوگوں کو خطرہ ہو۔
 اس مقصد کے لیے بلدیاتی اداروں میں خصوصی محکمے بھی قائم کیے گئے ہیں جن کا کام ہی یہی ہے کہ وہ کتوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرے کے پیشِ نظر انہیں مار دیں۔
 دوسری جانب جانوروں کے بچاؤ اور بحالی کے لیے قانون سازی بھی کی گئی ہے جس کے تحت جانور کو قتل یا نقصان پہنچانے والوں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
ایسی صورت میں یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے اور حکومت اور عدالت دونوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس قانون کو فوقیت دی جائے۔ 
 اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر ایک مقدمے میں دو رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظاہر کررہے تھے، نے کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کے قانونی ماہرین، کراچی میونسپل کارپوریشن، کینٹ بورڈ اور دیگر اداروں کو نوٹس جاری کر کے انہیں اس معاملے میں اپنی رائے دینے کا کہا ہے۔

اینیمل ویلفیئر سوسائٹی کی سربراہ کے مطابق معاشرے میں کتوں کے حوالے سے اشتعال پایا جاتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

 سیکرٹری لوکل گورنمنٹ صوبہ سندھ روشن علی شیخ نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا کہ ایک نئے پروگرام کا آغاز  کیا گیا ہے جس کے تحت اب کتوں کو مارنے کے بجائے صوبے بھر میں پانچ لاکھ سے زائد کتوں کی ویکسینیشن کر کے ان کی افزائش نسل کو روکا جائے گا۔
آوارہ کتوں کی پناہ گاہیں
 پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی کی سربراہ ماہرہ عمر نے اردو نیوز کو بتایا کہ لوگوں میں جانوروں، بالخصوص کتوں کے حوالے سے خاصا اشتعال پایا جاتا ہے۔
لوگ عمومی طور پر کتوں کو پسند نہیں کرتے اور موقع ملنے پر انہیں نقصان پہنچاتے ہیں اور زخمی کر دیتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ٹریفک کی زد میں آکر بھی کتے زخمی ہوجاتے ہیں۔ 
’دونوں صورتوں میں انہیں علاج اور دیکھ  بھال کی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کی جانب سے فراہم نہیں کی جاتی اورمجبوراً فلاحی اداروں کو یہ کام اپنے ذمے لینا پڑتا ہے۔‘
تاہم ماہرہ عمر کا کہنا ہے کہ ایسے فلاحی اداروں کی تعداد بہت کم ہے اور لوگوں اور حکومت کی مدد کے بغیر وہ زیادہ جانوروں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔
فلاحی کارکن سارہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے گھر پر ایک چھوٹا سا شیلٹر ہوم بنایا ہوا ہے جہاں وہ گلی محلوں میں زخمی ہونے والوں کتوں کو لا کر ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ 
ان کا کہنا ہے کہ اس پناہ گاہ کی وجہ سے انہیں کچھ علاقہ مکینوں کی جانب سے دھمکی آمیز رویے کا سامنا ہے، کیونکہ لوگ کتوں کی موجودگی سے خوش نہیں اور ڈراتے ہیں کہ ان کتوں کو گولی مار دیں گے۔‘

 روشن علی شیخ کے مطابق کتوں کی ویکسینیشن کے لیے اہلکاروں کی تربیت کی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

عائشہ چندریگر جو ’اے سی ایف فاؤنڈیشن‘ کے نام سے جانوروں کے لیے شیلٹر ہوم چلاتی ہیں، انہوں نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ جن کتوں کو زخمی حالت میں گلیوں سے اٹھا کر ان کی دیکھ بھال کر کے صحت مند ہونے کے بعد دوبارہ گلیوں میں چھوڑا گیا لوگوں نے انہیں مار ڈالا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ گلی کے کتوں کو شیلٹر ہوم میں قید کر کے رکھنا زیادتی ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں دوبارہ آزاد چھوڑا لیکن لوگوں نے انہیں مار دیا۔
 روشن علی شیخ کے مطابق کتوں کی ویکسینیشن کے لیے اہلکاروں کی تربیت کی جا رہی ہے جس کے بعد ایک نئی مہم کا آغاز کیا جائے  گا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا اس ویکیسینیشن مہم کے بعد آوارہ کتوں کے مسئلے پر موثر طریقے سے قابو پایا جا سکے گا۔

شیئر: