Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیرون ملک مقیم تارکین کے اقامے تجدید ہوں گے؟

اقامے کی تجدید بیرون ملک قیام کے دوران نہیں ہوسکتی۔ (فوٹو سبق)
دنیا بھر کی طرح سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے تحت کئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ 21 جون سے کرفیو کے خاتمے کے بعد معمولات زندگی بتدریج بحال ہو رہے ہیں تاہم بین الااقوامی فلائٹس پر پابندی  برقرار ہے۔
 سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اردو نیوز کے توسط سے اپنے مسائل بیان کیے۔ قانونی ماہرین اور جوازات کے ٹوئٹر اکاونٹ پر دی گئی وضاحت کی مدد سے ان کے جواب دیے گئے ہیں۔
 اردونیو ز کی ویب اور فیس بک پر کئی افراد نے سوال کیا ہے کہ سعودی عرب سے باہر ہیں۔ اقامے ایکسپائر ہوچکے ہیں کیا پاکستان یا کسی دوسرے ملک رہتے ہوئے اقامے کی تجدید ممکن ہے؟
 محکمہ پاسپورٹ نے ٹویٹر کے اپنے اکاؤنٹ پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ’ رائج الوقت نظام کے مطابق کسی بھی غیرملکی کے اقامے کی تجدید بیرون ملک قیام کے دوران نہیں ہوسکتی۔ اگر اقامہ ہولڈر مملکت میں موجود ہو اور اس کے متعلقین مثلا بیوی، بچے باہر ہوں تو ایسی صورت میں ان کے اقاموں کی تجدید سربراہ کے اقامے کی تجدید کے توسط سے ہوجائے گی‘۔
محکمہ پاسپورٹ کا اس حوالے  سے مزید یہ کہنا ہے کہ’ اس کا امکان ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے حکومت نئی ہدایات یا نئے فیصلے جاری کرے- جن کا ابھی تک کوئی اعلان کیا گیاہے اور نہ ہی محکمے کو مطلع کیا گیا ہے- ممکن ہے کہ حکومت ہنگامی حالات کو مدنظر رکھ کر استثنائی صورتحال کے طور پر کوئی سہولت دے مگر یہ بات مدنظر رہے کہ ابھی تک اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے‘۔
یاد رہے کہ سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے ابتدائی دنوں اطمینان دلایا تھا کہ ہنگامی صورتحال کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

 جب بھی کوئی نیا فیصلہ ہوگا سرکاری چینلز کے ذریعے اعلان کیاجائے گا۔(فوٹو ایس پی اے)

محکمہ پاسپورٹ کا یہ بھی کہناہے کہ ’جب بھی کوئی نیا فیصلہ ہوگا اس کا اعلان سرکاری چینلز کے ذریعے باقاعدہ کیاجائے گا‘۔
ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ ’عودہ‘ ویب سائٹ کے ذریعے وطن واپسی کی سہولت کا طریقہ کار کیا ہے؟
 وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے  متعلقہ اداروں (محکمہ پاسپورٹ، سعودی عریبین ایئرلائنز، سفارتخانوں) کے  تعاون و اشتراک سے ’عودۃ‘ نظام متعارف کرایا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ  واپسی کا خواہشمند اپنے سفارتخانے سے ایک خط حاصل کرے جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ متعلقہ ملک امیدوار کو واپس نہیں کرے گا اور وہ سعودی عرب سے سفر کرسکتا ہے۔ دوسری پابندی یہ لگائی گئی ہے کہ امیدوار کو سفر سے قبل کورونا ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ تیسری پابندی یہ ہے کہ وطن پہنچنے پر اسے قرنطینہ کے اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔
سعودی حکومت  کی اس سہولت سے ایسے غیرملکی فائدہ اٹھا رہے ہیں جو خروج نہائی (فائنل ایگزٹ) پر جانا چاہتے تھے اور ایسے غیرملکی جو کورونا بحران کی وجہ سے وطن واپسی کے خواہشمند ہیں۔
(عودۃ)  پروگرام  کے تحت واپسی کے خواہشمند تمام غیرملکیوں کوابشر کے ذریعے واپسی کی درخواست دینے کرنے کی سہولت دی گئی ہے.

 

شیئر: