Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا مثاترین کے اعداد وشمار پر چھ ملکوں میں عدم اعتماد

عوام کے خیال میں کورونا وائرس ابھی بھی پھیل رہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
دنیا کے کئی ملک کورونا وائرس پر قابو پانے کی حکمت عملی کے حوالے سے عوامی حمایت کھو رہے ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق عوام کے خیال میں ہلاکتوں اور متاثرین کی تعداد حکومتی دعوؤں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق چھ ممالک میں عوام کی رائے پر مبنی سروے کیا گیا ہے جس میں زیادہ تر افراد حکومتی اعداد و شمار سے مطمئن نہیں دکھائی دیے۔ یہ سروے امریکہ، برطانیہ، فرانس، سویڈن، جاپان اور جرمنی میں کیا گیا۔
کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک امریکہ میں عوامی حمایت میں چار فیصد کمی آئی ہے، 44 فیصد افراد نے وفاقی حکومت کی کورونا کے حوالے سے کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ میں حکومتی اقدامات کی حمایت میں تین درجے کمی آئی ہے جبکہ سروے کے جواب دہندگان میں سے صرف ایک تہائی نے حکومت کے کورونا پر قابو پانے کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔ 
سروے رپورٹ کے مطابق رواں ماہ میں اکثر ممالک کی کورونا کے حوالے سے کارکردگی کی عوامی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جبکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں فرانس میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامت کو سراہتے ہوئے حمایت میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 فرانس میں کورونا کے مزید کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

کورونا سے ہونے والی  ہلاکتوں کے تناسب سے فرانس ساتویں نمبر پر ہے۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد حال ہی میں فرانس میں دوبارہ سے کورونا کے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جس کے بعد حکومت نے تمام بند عمارتوں اور دفاتر میں فیس ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔
سویڈن نے نسبتاً لاک ڈاؤن کے حوالے سے سختی نہیں کی تھی جس کے باعث ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں متاثرین کی شرح زیادہ رہی ہے۔ سروے کے مطابق سویڈن کے وزیراعظم کی کارکردگی کی ریٹنگ مثبت سات فیصد سے کم ہو کر زیرو پر چلی گئی ہیں۔
ہر ملک سے ایک ہزار افراد کی سروے میں رائے لی گئی تھی جن میں سے اکثریت کے خیال میں سرکاری اعداد و شمار کے برعکس وائرس ابھی بھی زیادہ خطرناک ہے اور پھیل رہا ہے۔
سویڈن اور برطانیہ میں عوامی رائے کے مطابق چھ سے سات فیصد کورونا کے مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکہ میں عوامی رائے کے مطابق آبادی کا دسواں حصہ کورونا کے باعث موت کا شکار ہو چکا ہے، جو کہ سرکاری اعداد و شمار سے دو سو گنا زیادہ ہے۔

شیئر: