Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیروت دھماکے: '15 سیکنڈز میں 15 سال کی جنگ'

اقوام متحدہ نے بیروت میں ضروری طبی سامان بھجوا دیا ہے۔ فوٹو ٹوئٹر
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس نے  بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے کی وجوہات کی ’معتبر اور شفاف‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی آن لائن بریفنگ میں 50 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔
عرب نیوز کے مطابق سیکرٹری جنرل کا یہ مطالبہ بیروت کے عوام کے سڑکوں پر نکل کر مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ مظاہرین ان دھماکوں کو حکومتی بدعنوانی اور نااہلی قرار دے رہے ہیں جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنانی عوام کے جذبات کو سلام پیش کیا۔ فوٹو عرب نیوز

اقوام متحدہ میں لبنان کی سفیر  امل مدلعلی نے  بیروت دھماکے کو ’15 سیکنڈز میں 15 سال کی جنگ سے تشبیہ دی ہے، جو اب تک کے تاریک ترین 15 سیکنڈز ہیں۔‘
لبنان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کی آن لائن بریفنگ کے دوران ایک جذباتی تقریر میں انہوں نے مزید کہا: ’انصاف کے مستحق لوگ بجا طور پر شفاف تحقیق کا  مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

مظاہرین دھماکوں کو حکومتی بدعنوانی اور نااہلی قرار دے رہے ہیں۔ فوٹو ٹوئٹر

دھماکوں کے بعد جس طرح  لبنانی عوام نے  زخمیوں کی مدد کی اور سڑکیں صاف کیں۔ اس کے بعد  بین الاقوامی طور پر ہونے والی آن لائن کانفرنس کے موقع پر سیکرٹری جنرل نے لبنانی عوام کے جذبات کو سلام پیش کیا۔  
سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی عطیہ دہندگان پر زور دیا  ہے کہ تباہ حال ملک کی مدد کے لیے ’انتظار کیے بغیر اور فراخدلی سے‘ امداد فراہم کریں۔

آن لائن انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس میں 300 ملین  ڈالر کے عطیات کا اعلان کیا گیا۔ فوٹو روئٹر

آن لائن کانفرنس کے دوران لبنانی عوام کی ضروریات کے مطابق  طویل مدتی سیاسی اور معاشی اصلاحات کو نافذ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
اقوام متحدہ نے بیروت میں زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے ضروری طبی سامان کے ساتھ ریسکیو ماہرین بھیجے ہیں۔
اس کے علاوہ 15 ملین  ڈالرکی امداد بھی فراہم کی ہے تاکہ ضرورت مندوں میں فوری طور پر فنڈز تقسیم کیے جا سکیں۔

سیکرٹری جنرل نے فراخدلی سے امداد کرنے کی اپیل کی۔ فوٹو ٹوئٹر

سیکرٹری جنرل نے دھماکوں کے بعد بیروت کا دورہ کرنے والے پہلے عالمی رہنما فرانسیسی صدر ایمانوئیل میخواں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے عالمی رہنماوں سے ان کی تقلید کرنے کا کہا۔
فرانسیسی صدر نے لبنان کے لیے آن لائن انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس کا انعقاد کیا، کانفرنس کے دوران عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں نے 300 ملین ڈالر کے عطیات کا اعلان کیا ہے۔
عطیہ دہندگان نے کہا ہے کہ امداد کو اقوام متحدہ سے مربوط کیا جائے گا تاکہ یہ امداد براہ راست لبنانی عوام تک پہنچائی جا سکے۔

بین الاقوامی تنظیموں نے 300 ملین ڈالر کے عطیات کا اعلان کیا ہے۔ فوٹو عرب نیوز

یہ درخواست ان خدشات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ لبنانی حکومت کو فراہم کی جانے والی امداد کا صحیح استعمال نہیں ہوگا۔
فرانسیسی صدر نے لبنان کی بدحال معیشت، بدعنوانی سے نمٹنے اور بینکاری نظام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ  مل کر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے لبنان کے حکمران طبقے پر تنقید کی ہے۔

دھماکے کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ فوٹو ٹوئٹر

 آن لائن کانفرنس میں اتفاق رائے سے لبنان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا اور ضروریات کے مطابق فوری امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کو دو ہفتوں میں خوراک کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے اناج کی درآمد کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

آئی ایم ایف نے لبنان کے حکمران طبقے پر تنقید کی ہے۔ فوٹو ٹوئٹر

ڈیوڈ نے بتایا کہ انہوں نے لبنانی صدر مشیل عون اور کابینہ کے وزرا سے ملاقات کی اور ان سے تعاون کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ہم سے کہہ رہے ہیں کہ براہ کرم  امداد براہ راست لوگوں تک پہنچنے کو یقینی بنائیں۔
اقوام متحدہ میں لبنان کی سفیر امل مدلعلی نے اس موقع پر بیروت میں ترجیحات پر روشنی ڈالی جن میں طب، خوراک، تعمیراتی سامان اور شہر کی بندرگاہ کی تعمیر نو شامل ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے پرزور اپیل کی کہ وہ ’بحالی کے سفر میں ہمارے ساتھ رہیں اور تباہی کے خاتمے تک ہر مرحلے میں مدد کریں۔‘
اس سانحے اور چیلنجوں کے باوجود بیروت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے سفیر نے ایک پُرجوش اور پرامید نوٹ پر تقریر کا اختتام کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ سے وعدہ ہے کہ ہم دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘ ہم بہتر طور پر دوبارہ تعمیر کریں گے۔
ہم بقائے باہمی اور رواداری کا پیغام دیتے رہیں گے اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں اور اقدار کو برقرار رکھیں گے۔"لیکن ہمیں یہ سب مل کر کرنا ہے۔"

شیئر: