Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

'کوئی میک اپ کرنے کے پیسے نہیں دیتا تھا'

کاسمیٹکس کے بعد ہدیٰ نے سکن کیئر لائن بھی متعارف کروائی ہے۔ فوٹو اے ایف پی
ہدیٰ بیوٹی برانڈ کی بانی ہدیٰ قطان کا کہنا ہے کہ کاسمیٹکس کے شعبے میں کیریئر کا آغاز کرنے کے لیے شروع میں انہیں لوگوں کے مفت میک اپ کرنا پڑے۔
عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عراقی نژاد امریکی بیوٹی آرٹسٹ ہدیٰ قطان نے بتایا کہ بڑی بہن عالیہ قطان سے متاثر ہونے کے باعث ان کی کاسمیٹکس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
’میں اپنی بہن کے میک اپ پراڈکٹس چرایا کرتی تھی اور انہیں تب تک استعمال کرتی رہتی جب تک کہ وہ ختم نہ ہو جاتے۔‘
 
 
 
 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Quibi (@quibi) on

ہدیٰ قطان نے کاسمیٹکس پراڈکٹس کے بعد ’وش فل‘ کے نام سے سکن کیئر برانڈ بھی متعارف کرایا ہے۔ ہدیٰ کی مشہوری کی ایک وجہ سوشل میڈیا بالخصوص یوٹیوب بھی ہے جس پر وہ اب بھی میک اپ سکھانے کی ویڈیوز پوسٹ کرتی ہیں۔
ہدیٰ قطان نے اپنے اربوں ڈالر کی مالیت کے بیوٹی برانڈ کے بارے میں کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ ان کی کمپنی دبئی میں واقع ہے جو مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے بہ نسبت انتہائی ترقی پسند ہے اور یہاں کے لوگوں کو خوبصورتی سے محبت ہے۔
انہوں نے کاروبار کے آغاز میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا کہ عورت ہونے کے ناطے یہ ایک چیلنج تھا۔
’جب ہم نے شروع کیا، تو لوگوں کا رویہ میرے ساتھ ایسا تھا کہ جیسے یہ صرف میرا مشغلہ ہو اور وہ مجھے ایسا محسوس کرواتے تھے جیسے  کہ مجھ میں قابلیت نہیں ہے۔‘
 
 
 
 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Huda Kattan (@huda) on

ہدیٰ قطان نے بتایا کہ انہوں نے اپنا کاروبار بہت چھوٹے پیمانے سے شروع کیا اور اس دوران یوٹیوب اور انسٹاگرام انتہائی مؤثر ثابت ہوئے۔
’کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یوٹیوب اور انسٹاگرام کا بیوٹی کے حوالے سے استعمال اس قدر مؤثر ہو سکتا ہے۔'
ہدیٰ کا کہنا تھا کہ شروع میں کوئی بھی ان سے میک اپ کروانے کے پیسے نہیں ادا کرنا چاہتا تھا، لیکن اپنے کیریئر میں مسلسل کوششوں کے بعد انہیں امریکی کاسمیٹکس کمپنی ’ریولون‘ کی مشرق وسطیٰ میں قائم برانچ میں بطور میک اپ آرٹسٹ کام کرنے کا موقع ملا۔
ہدیٰ قطان کا بچپن امریکی ریاست ٹینیسی میں گزرا ہے۔ انہوں نے امریکہ میں گزرے ہوئے بچپن کے حوالے سے بتایا کہ شکل و صورت میں دیگر بچوں سے مختلف ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔
 
 
 
 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Huda Kattan (@huda) on

’میں سکول میں تمام بچوں سے دکھنے میں مختلف لگتی تھی اور لوگوں مجھے ’عجیب‘ پکارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ یا کبھی میرے ساتھ انتہائی بدسلوکی سے پیش آتے تھے۔‘
ہدیٰ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ مغربی ملک سے بھی تعلق ہونے پر انہیں ’غیر‘ محسوس ہوتا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ اس مختلف ماحول میں ان کی بھی قدر ہو۔
آج انسٹا گرام پر ہدیٰ قطان کے تقریباً بیس لاکھ فالوورز ہیں جبکہ یو ٹیوب پر ان کے چینل کو چالیس لاکھ سے زیادہ صارفین نے سبسکرائب کیا ہوا ہے۔

شیئر: