Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ترکی میں اپوزیشن پارٹی کے رکن پر سرعام تشدد

حکومت پر سخت تنقید کرنے والے 39 سالہ سیاستدان کو ہسپتال پہنچا دیا گیا(فوٹو ٹوئٹر)
ترکی میں اپوزیشن جماعت پارٹی آف ترکی(ٹی آئی پی) کے رکن باریس آتے کو استنبول کے قریبی ضلع کدیکوئی میں کچھ لوگوں نےعام شاہراہ پر زدوکوب کیا۔
عرب نیوز کے مطابق ترک حکومت پر سخت تنقید کرنے والے 39 سالہ سیاستدان پر گذشتہ روز پیر کو صبح سویرے ایک مصروف شاہراہ پر نامعلوم افراد نے لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ اس تشدد کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

باریس کو جون2017 میں مختصر عرصہ کے لیے جیل بھی جانا پڑا تھا(فوٹو ٹوئٹر)

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو کی جانب سےسوشل میڈیا پرباریس آتے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
باریس نے  مبینہ طور پر کرد خاتون کو  زیادتی کا  نشانہ  بنانے  والے شخص کو  رہا کرنے کا ان پر الزام لگا یا تھا۔
واضح رہے کہ  وزیر داخلہ سویلو نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے  زیادتی  کرنے والے کسی شخص کی رہائی کا حکم نہیں دیا۔
اس الزام کے ردعمل کے طور پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔

کوئی اہلکار منتخب نمائندے کو دھمکیاں دیتا ہے تو یہ افسوسناک ہے(فوٹو عرب نیوز)

حکومت مخالف پارٹی کے رکن باریس آتے نے ہسپتال میں پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے سلیمان سویلو کا ہاتھ ہے، انہوں نے میرے الزام لگانے پر براہ راست تنقید کی تھی۔
اپوزیشن جماعت پارٹی آف ترکی(ٹی آئی پی) نے جون کے وسط میں یہ دعوی کرنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ باریس آتے کی گاڑی کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
باریس آتے پیشے کے لحاظ سے سابق اداکار ہیں اور ترک صدر رجب طیب اردغان کی حکومت کے دیرینہ نقاد رہے ہیں۔

حملے کے پیچھے سلیمان سویلو کا ہاتھ ہےہسپتال میں پولیس کو بیان(فوٹو عرب نیوز)

2013 کے موسم گرما میں حکومت مخالف گیزی پارک کے  احتجاج میں انہوں نے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
ترک وزیراعظم کے سابق مشیر یوسف یارکل کی توہین آمیز تصویر بنانے پر انہیں جون2017 میں مختصر عرصہ کے لیے جیل بھی جانا پڑا تھا ۔ یہ تصویر اس وقت بنائی گئی جب سابق مشیر کوئلے کی کان کے کارکنوں کی جانب سے مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں روک رہے تھے۔
مرکزی حزب اختلاف( سی ایچ پی )کے سابق پارلیمنٹیرین زلفو لیونیلی نے اس عوامی تشدد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے "ترک معاشرے کو  بلاجواز تشدد کی  جانب  کھینچا جارہا ہے۔ باریس پر حملہ اس کی ایک مثال ہے۔
باریس کو 2013 میں ہی کمپیوٹر ہیکر گروپ ریڈ ہیک کے ساتھ رابطوں کے  الزام میں بھی استنبول میں زیر حراست رکھا گیا جب کہ الزام ثابت نہ ہونے پر تین دن بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
حزب اختلاف فیلیسی پارٹی کے ایک سابق  رکن سہیانگر اسلام نے استنبول سے عرب نیوزسے بات کرتے ہوئے کہا  "ہم قوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حکومت عوام کو  جوابدہ  ہے کہ وہ حکومت سے کیا کرنے کو کہتے ہیں۔
یہاں ایک اہلکار کسی منتخب نمائندے کو دھمکیاں دیتا ہے تو  یہ افسوسناک واقعہ ہے اور اصل میں کسی حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔
ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر مصطفی سینتاپ نے باریس آتے پر حالیہ حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ "پارلیمنٹ کے کسی ممبر پر  ایسا حملہ ناقابل قبول ہے۔"
اس کے جواب میں سہیانگر اسلام نے کہا ہے کہ مصطفی سینتاپ کو  نہ صرف مذمت بلکہ مجرموں کی شناخت کے لیے دباو بھی ڈالنا چاہئے۔
ترک شہریوں نے سابق اداکار اور حزب اختلاف پارٹی کے ممبر باریس آتے کی حمایت میں ٹوئیٹر پر  باریس آتے تنہا نہیں کے ہیش ٹیگ کا استعمال کیا ہے۔
 
 

شیئر: