Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کبھی دیے جلائے اور کبھی دل

ریا کے ساتھ جو اب ہو رہا ہے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ مارچ میں ہوا (فوٹو: انسٹا گرام)
اب تو بس ایک دھندلی سی یاد باقی ہے ورنہ ایک زمانہ تھا کہ انڈیا میں لوگ سڑکوں پر نکلتے ہوئے ڈرتے تھے، کبھی بالکونی میں کھڑے ہوکر تالیاں پیٹ رہے ہوتے تھے اور کبھی خالی تھالیاں، اور اس سب کے دوران جو وقت بچتا تھا اس میں ’زماتیوں‘ کو نواز رہے تھے۔ یا بس یوں سمجھ لیجیے کہ کبھی دیے جلا رہے تھے اور کبھی دل۔
اس وقت روزانہ کورونا وائرس کے دو چار سو کیسز سامنے آ رہے تھے اس لیے لوگ ڈرے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم بھی ٹی وی سٹوڈیوز کے آس پاس ہی گھومتے رہتے تھے کہ نہ جانے کب شارٹ نوٹس پر قوم سے خطاب کرنا پڑ جائے۔
اور لوگ بھی اپنی بالکونیوں کے پاس ہی منڈلاتے رہتے تھے کہ نہ جانے کب شارٹ نوٹس پر تھالیاں بجانی پڑ جائیں اور بچوں کو صبح ہی یہ ہدایت دے دیتے کہ اگر ہم اشارہ کریں تو فوراً موم بتیاں ہماری طرف پھینک دینا، کورونا وائرس کے خلاف یہ لڑائی ہمیں مل کر لڑنی ہے، کبھی شعاعوں سے کبھی شور سے۔لیکن عقل سے نہیں۔
اس لیے تین چار مہینے بعد اب سب ٹھیک ہو گیا ہے، بلا وجہ دماغ لگانے لگتے تو صورتحال اور پیچیدہ ہو جاتی۔ جب روزانہ ایک ہزار کیس تھے تو ملک یوں بند تھا کہ پرندے بھی گھونسلوں میں چھپے بیٹھے تھے، بدنامی کا ڈر جو تھا، لوگ کیا کہیں گے کہ قوم کس قدر سخت آزمائش سے گزر رہی ہے اور یہ ہیں کہ مزے سے اڑتے پھر رہے ہیں۔ انہیں پر کیا لگ گئے، بس گھونسلے میں ٹکتے ہیں نہیں۔
لیکن اب 42 لاکھ لوگ کورونا وائرس کی زد میں آچکے ہیں، اور کیسز کی تعداد روزانہ 80 سے 90 ہزار کے قریب ہے۔ کل کیسز کے لحاظ سے انڈیا اب برازیل کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ اب بھی بہت آگے ہے، لیکن اس سے مقابلہ کرنے کا فائدہ بھی کیا ہے، وہاں کے لوگوں کی سمجھداری کا کارنامہ تو آپ نے چار سال پہلے دیکھ ہی لیا تھا۔
تو پہلے کے مقابلے میں کیا بدلا ہے؟ بازار کھلے پڑے ہیں، سڑکوں پر چلنے کی جگہ نہیں ہے، پابندیاں جس تیزی سے لگائی گئی تھیں اس سے بھی زیادہ تیزی سے ہٹا لی گئی ہیں۔
 نہ اب وزیر اعظم قوم سے خطاب کر رہے ہیں اور نہ کوئی بریفنگ ہو رہی ہے۔ پہلے کرورونا کہیں کہیں تھا اور اس کا خوف ہر جگہ، اب کرورونا ہر جگہ ہے اور اس کا خوف کہیں نہیں۔ لوگ یوں اپنی زندگیوں میں مگن ہوگئے ہیں جسے ٹیکا لگوا کر گھر سے نکلے ہوں۔

چھ ہفتے پہلے تک ریا چکرورتی کا نام ہم نے نہیں سنا تھا (فوٹو فیس بک)

یا کچھ اور وجہ ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ یہ خبر ٹی وی چینلوں کے رڈار سے ہٹ گئی ہے۔ جب تک چوبیس گھنٹے ٹی وی پر تبلیغی جماعت والوں کا ذکر تھا، اور اس بیماری کے ایک ایک پہلو کا اتنی بار تجزیہ کیا جارہا تھا کہ تجزیہ نگار بھی کنفیوز ہونے لگے تھے کہ تجزیہ کس بات کا کر رہے ہیں، تو لوگ ڈرے بیٹھے تھے۔ اب چینلوں کو سشانت سنگھ راجپوت کی سابقہ گرل فرینڈ مل گئی ہیں اور اتنی اہم خبر کے سامنے کورونا وائرس کیا بیچتا ہے۔
اس لیے اب لگتا ہے کہ اگر حکومت نے شور نہ مچایا ہوتا اور ٹی وی چینل خاموش بیٹھے رہتے، تو کورونا وائرس آکر چلا بھی جاتا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔
اتنی توجہ ملنے سے بات زیادہ خراب ہوئی۔ ٹی وی چینل چاہیں تو پلک جھپکتے ہیں رائی کا پہاڑ بناسکتے ہیں۔ یا پہاڑ کی رائی جیسا کہ کورونا وائرس کے کیس میں کر رہے ہیں۔
چھ ہفتے پہلے تک ریا چکرورتی کا نام ہم نے نہیں سنا تھا۔ پھر فلم سٹار سشانت سنگھ راج پوت نے بظاہر اپنی جان لے لی۔ اب ریا کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان کے بھائی کو پہلے ہی جیل بھیجا جاچکا ہے۔ لیکن سشانت کی موت کے سلسلے میں نہیں۔
اور نہ ہی ان کی دولت ہڑپنے کے الزام میں۔ کیوں کہ جو 15 کروڑ روپے کہا جارہا تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ ملکر سشانت کے اکاؤنٹس سے غائب کیے تھے، اب ایک چینل کا دعوی ہے کہ سشانت کو ملے ہی نہیں تھے۔ سچ بے نقاب کرنے کے لیے انڈیا کی تین ایجنسیاں دن رات ایک کر رہی ہیں۔ اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ منی لانڈرنگ کے الزامات کی تفتیش کر رہی ہے، سی بی آئی پر اسرار موت کی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو منشیات خریدنے اور استعمال کرنے کے الزام کی۔

ایک نوجوان اداکار کی افسوسناک حالات میں موت ہوئی (فوٹو اے ایف پی)

ریا کو اب جج صاحب یا تو جیل بھیج دیں گے یا ضمانت پر رہا کردیں گے۔ اس لیے کہ نارکوٹکس بیورو کے مطابق انہوں نےاپنے لو ان پارٹنر سشانت کے لیے ڈرگز کا انتظام کیا تھا۔ ان پر خود ڈرگز استعمال کرنے کا الزام نہیں ہے۔
 اگر کوروناوائرس کے تجزیہ نگاروں کی طرح آپ بھی بھول گئے ہوں کہ بات شروع کہاں سے ہوئی تھی تو یہ ہمیں بھی یاد نہیں۔ بس یہ یاد ہے کہ ایک نوجوان اداکار کی افسوسناک حالات میں موت ہوئی اور پھر اس پورے معاملے نے ایک سرکس کی شکل اختیار کرلی۔ کیوں؟ سنا ہے اس لیے کہ بہار میں الیکشن ہونے والے ہیں اور سشانت کا تعلق بہار سے تھا۔
لیکن کیا سشانت کی موت میں ریا کا کوئی ہاتھ تھا، اب تک کوئی ثبوت سامنے آیا ہے؟ اگر ثبوت مل گیا ہوتا تو نارکوٹکس بیورو کو کیوں زحمت دینی پڑتی۔ یہ کب ضروری ہے کہ سزا اسی جرم کے لیے دی جائے جس کی وجہ سے پورا فسانہ شروع ہوا تھا؟ 
کسی کے پاس سے انسٹھ گرام چرس برآمد ہوئی ہے اس لیے کسی نہ کسی کو سزا تو ملنی ہی چاہیے۔
اگر سشانت کے لیے چرس خریدنے کا جرم بھی ثابت نہیں ہوتا تو کوئی بات نہیں ریا نے کبھی نہ کبھی ریڈ لائٹ تو پار کی ہوگی، اور ٹریفک کے قواعد توڑنے سے زیادہ خطرناک اور کیا جرم ہو سکتا ہے؟ 

کیا سشانت کی موت میں ریا کا کوئی ہاتھ تھا، اب تک کوئی ثبوت سامنے آیا ہے (فوٹو اے ایف پی)

ریا کے ساتھ جو اب ہو رہا ہے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ مارچ اپریل میں ہوا تھا، کرنے والے وہی میڈیا چینل تھے۔ جو بعد میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ہوا لگتا ہے کہ ریا کے ساتھ بھی ہوگا۔
لیکن چینلوں پر اس کاذکر نظر نہیں آئے گا۔ کیونکہ کہانی آگے بڑھ چکی ہوگی۔ جب ممبئی ہائی کورٹ نے کہا کہ تبلیغی جماعت والوں کے خلاف یہ الزام غلط تھا کہ وہ کورونا وائرس پھیلا رہے تھے، اور انہیں بے وجہ بدنام کیا گیا اور ’بلی کا بکرا‘ بنایا گیا تھا تو کسی چینل نے اس بارے میں ڈبیٹ نہیں کی اور نہ معافی مانگی کہ انہوں نےجماعت کی آڑ میں ایک پوری قوم کو بدنام کیا تھا
جماعت والوں میں جتنے کیسز ملے اتنے اب ہر دس پندرہ منٹ میں ہو رہے ہیں۔ لیکن ٹی وی پر ان کا ذکر نہیں ہے۔ یہ کوئی شکایت کی بات بھی نہیں ہے۔ انڈیا کی معیشت کا حجم رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً چوبیس فیصد کم ہوا اور تخمینوں کے مطابق پورے مالی سال میں قومی مجموعی پیداوار دس فیصد گھٹے گی۔
انڈیا کے ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن کا کہنا ہے کہ معیشت کی حالت زار پر سب کو فکر ہونی چاہیے۔ آپ سوچیں گے کہ کیوں؟ کاروبار بند ہوں گے، نوکریاں جائیں گی اور ایسے لاکھوں خاندان جو لمبی جدوجہد کے بعد غربت کے نرغے سے نکلے تھے واپس غربت میں گھر جائیں گے۔
 معیشت ترقی کرتی ہے تو نوکریاں پیدا ہوتی ہے، دوسری سمت میں جائے گی تو نوکریاں ختم ہوں گی۔ پھر وہ لاکھوں نوجوان کیا کریں گے جو ہر روز نوکری کے طلب گاروں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں؟
کرنے کو تو زیادہ کچھ ہوگا نہیں اس لیے ٹی وی ہی دیکھیں گے۔

شیئر: