Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر‘، کیپٹن (ر) صفدر پر مقدمہ

گوجرانوالہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس سٹیشن میں درج کیے گئے مقدمے میں ن لیگی ایم پی اے عمران خالد بٹ بھی نامزد ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور ن لیگی رہنما کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ’صوبائی حکومت کو الٹنے، فوج کے اعلیٰ افسران کے خلاف نفرت ابھارنے اور اشتعال انگیزی پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
گوجرانوالہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس سٹیشن میں درج کیے گئے مقدمے میں ن لیگی ایم پی اے عمران خالد بٹ بھی نامزد ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں ایک اجلاس کے بعد تقریر کرتے ہوئے حکومت کو بزور احتجاج حتم کرنے کی دھمکی دی اور ریاستی و انتظامی اداروں کے خلاف نفرت کے جذبات ابھارے۔

 

ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے داماد نے 16 اکتوبر کے جلسے کی اجازت نہ ملنے پر بزور طاقت اجازت لینے کی دھمکی دی اور اعلیٰ فوجی افسران، ریاستی اور انتظامی اداروں  کے خلاف نفرت پر مبنی اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے۔
ایف آئی آر کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’جس شہر میں گرفتاری ہوگی وہاں کے کور کمانڈر کے گھر کا محاصرہ یا گھیراؤ کرلیں گے اور اس کے گھر کے باہر دھرنا دیں گے۔‘
گوجرانولہ پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے تقریر میں کہا کہ ’اگر گوجرانولہ میں کوئی گرفتاری ہوئی تو کینٹ قریب ہی ہے یہاں کے کور کمانڈر کے گھر کا گھیراؤ کریں گے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے خلاف ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کے نام سے سیاسی اتحاد تشکیل دیا ہے جس کے تحت ملک گیر احتجاجی مہم چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

شیئر: