Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانیوں کے لیے نئے سعودی ویزوں کے اجرا کا عمل شروع

بیورو کے مطابق اگر کفیل کو متعلقہ ورکر کی ضرورت نہ رہی ہو تو یہ تعداد کم ہو سکتی ہے۔ (تصویر : ایس پے اے)
پاکستان میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے سفری پابندیوں کے باعث مملکت نہ جا سکنے والے ورکرز کے ویزوں کی دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جس سے تیس ہزار پاکستانی ورکرز مستفید ہوں گے۔
سعودی سفارت خانے کے مطابق ان پاکستانیوں کے پرانے ویزوں کی منسوخی اور نئے ویزوں کے اجرا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جو کورونا سے پہلے سعودی عرب روانگی کے لیے تیار تھے لیکن سفری پابندیوں کے باعث روانہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان کے ویزہ کی میعاد ختم ہو گئی تھی۔
سعودی عرب کے سفارت خانے کی جانب سے تمام ریکروٹنگ ایجنسیز اور اوورسیز پاکستانیز ایپملائمنٹ پروموٹرز کو جاری کیے گئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سفارت خانے میں ورک ویزہ توسیع سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد ورکرز کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
سعودی سفارت خانے کے مطابق جو پاکستانی ورکرز اپنے پرانے ویزے کی منسوخی اور نیا ویزہ لگوانا چاہتے ہیں وہ کفیل کی جانب سے سعودی وزارت خارجہ اور سعودی چیمبر آف کامرس کا تصدیق شدہ خط اور نیا میڈیکل سرٹیفیکیٹ جمع کروائیں۔ ورکرز کے سابق ای نمبر ہی نئی میڈیکل رپورٹ آن لائن اپ لوڈ کریں۔

کاغذات مکمل ہونے کے بعد پرانا ویزہ از خود منسوخ ہو جائے گا اور نیا ورک ویزہ لگا کر دے دیا جائے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

کاغذات مکمل ہونے کے بعد پرانا ویزہ از خود منسوخ ہو جائے گا اور نیا ورک ویزہ لگا کر دے دیا جائے گا۔
پاکستان بیورو آف امیگریشن کے مطابق سعودی حکومت نے پہلے مرحلے میں پاکستان میں چھٹی پر آئے ان ورکرز کے اقاموں میں توسیع کی جو پاکستان آئے ہوئے تھے لیکن سفری پابنیوں کے باعث واپس نہیں جا سکے تھے اور ان کے اقاموں کی مدت ختم ہو گئی تھی۔ اسی طرح سعودی عرب میں موجود وہ لوگ جو واپس آنا چاہتے تھے لیکن فائنل ایگزٹ لگنے کے باوجود واپس نہیں آ سکے تھے ان کو مفت توسیع دی گئی۔
اب تیسرے مرحلے میں ان ورکرز کو نئے سرے سے ویزے دیے جا رہے ہیں جنھیں مارچ اپریل میں روانہ ہونا تھا لیکن نہیں جا سکے تھے۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق اس سہولت سے کم و بیش تیس ہزار ورکرز مستفید ہوں گے۔ مارچ میں جن لوگوں کے پروٹیکٹوریٹ لگ چکے تھے ان کی تعداد تیس ہزار سے زائد تھی تاہم اب کفیل پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ورکرز کو نیا لیٹر جاری کرتے ہیں یا نہیں۔
بیورو کے مطابق اگر کفیل کو متعلقہ ورکر کی ضرورت نہ رہی ہو تو یہ تعداد کم ہو سکتی ہے۔

شیئر: