Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب ڈیجیٹل معیشت میں سرفہرست 30 ممالک میں شمولیت کا خواہاں

اب تک پانچ لاکھ 70 ہزار گھروں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے منسلک کیا گیا ہے (فوٹو عرب نیوز)
 سعودی کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم سی آئی ٹی) کی وزارت نے دسمبر 2020 کے آخر تک 35 لاکھ گھروں میں آپٹیکل فائبر کی ترسیل مکمل کی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایم سی آئی ٹی نے نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام کی جانب سے مقرر کردہ آپٹیکل فائبر تعیناتی کے اقدام کو منظور کیا ہے۔
 سعودی کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مقصد 2023 تک مملکت کو ڈیجیٹل معیشت میں سرفہرست 30 ممالک میں شامل کرنا ہے۔
سعودی عرب میں اب تک تقریباً پانچ لاکھ 70 ہزار گھروں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے منسلک کیا گیا ہے جس سے مملکت کے تمام  ریجنز میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں اضافہ ہو گا اور مملکت کے وژن 2030 کے مطابق آپٹیکل فائبر نیٹ ورکس کی فراہمی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر کے ڈیجیٹل تبدیلی کے قابل بنایا جائے گا۔
وزارت نے وضاحت کی کہ اس وژن کا مقصد ڈیجیٹل معاشرے، ایک ڈیجیٹل حکومت اور ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر میں ٹیلی کمیونیکیشنز کے شعبے کے کردار کو مستحکم کرنا ہے۔
سعودی عرب آپٹیکل فائبر نیٹ ورکس کی تعیناتی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے اقدام سمیت متعدد اقدامات شروع کرکے  تیل کے ماسوا جی ڈی پی آمدنی کو زیادہ کرکے معیشت کو ترقی دینے کی طرف گامزن ہے۔
العربیہ نے الاقتصادية اخبار کے حوالے سے کہا  آپٹیکل فائبر نیٹ ورکس تیل کے ماسوا جی ڈی پی میں اضافے اور ڈیجیٹل صحت، ڈیجیٹل حکومت، ای کامرس اور سمارٹ تعلیم میں مستفید افراد کو فراہم کی جانے والی ڈیجیٹل خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ہیں۔

شیئر: