Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ کمزور بات ہے کہ میں اب جیل نہیں جا سکتا‘

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عوامی سپورٹ ہو تو ایک جماعت بھی تبدیلی لا سکتی ہے (فوٹو: مسلم لیگ ن)
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحریکیں رکتیں نہیں، کوئی ساتھ رہے یا کوئی ایک آدھ ساتھ چھوڑ دے، سفر جاری رہتا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’یہ بہت کمزور بات ہوتی ہے کہ میں اب جیل نہیں جا سکتا، لڑ نہیں سکتا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا ’اگر ایسا ہے تو پھر آپ سیاست میں ہیں کیوں، اس میں تو اقتدار بھی آئے اور جیل بھی۔‘
مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے حوالے سے کہا کہ تحریک کے لیے سب سے اہم بات عوام کی سپورٹ ہے اگر وہ موجود ہو تو اکیلی جماعت بھی تبدیلی لا سکتی ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے معیشت تباہ کرنے کا الزام لگایا اور مشورہ دیا کہ ’وہ اپنی نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دے۔‘
انہوں نے وزیراعظم کے ایسے بیانات کہ ’پچھلی حکومتوں کی وجہ سے مسائل ہیں۔‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے چند ماہ تو گزر سکتے ہیں، پورا دور نہیں۔
بقول ان کے ’پانچ سال گزر جائیں گے اور آپ یہی کہتے رہیں گے۔‘ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر حکومت کو مسلط شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’طاقت ور ادارے ملک کے محافظ بنیں، ناجائز حکومت کے نہیں۔‘
انہوں نے پی ڈی ایم میں استعفوں کے حوالے سے بننے والی صورت حال پر کہا کہ ’مورچے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جے یو آئی قوم کو مایوس نہیں کرے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے حکمرانوں کو سکون کی نیند سونے نہیں دینا۔‘

شیئر: