Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

منی لانڈرنگ کا الزام: جہانگیر ترین اور خاندان کے بینک اکاؤنٹس منجمد

ایف آئی اے اہلکار کے مطابق }علی ترین کے 21، جہانگیر ترین کے 14 اور ان کی اہلیہ کا ایک اکاؤنٹ منجمد کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین جمعے کو منی لانڈرنگ کے الزامات کا جواب دینے لاہور میں واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ہیڈکوارٹرز میں تفتیشی حکام کے سامنے پیش ہوگئے۔ 
وہ دو گھنٹے تک ایف آئی اے کے افسروں کے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ اس سے قبل ان کے صاحبزادے علی ترین بھی ایف آئی اے میں پیش ہوئے۔ 
ایف آئی اے کے ایک اعلٰی افسر نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’منی لانڈرنگ کے اس مقدمے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور تفتیش مکمل ہونے تک جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین اور اہلیہ کے بینک اکاونٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔‘
 
اس حوالے سے ایف آئی اے نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی تھی جس پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’علی ترین کے 21، جہانگیر ترین کے 14 اور ان کی اہلیہ کا ایک اکاؤنٹ منجمند کیا گیا ہے۔’
’ان کے یہ اکاؤنٹس مختلف سرکاری اور نجی بینکوں میں تھے۔ کل نو بینکوں کے کھاتے منجمد ہونے کے بعد اب تحقیقات مکمل ہونے تک ان کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔‘
خیال رہے کہ 22 مارچ کو جہانگیر تین اور ان کی خاندان کے دیگر افراد کے خلاف ایف آئی اے نے دو مقدمات درج کیے تھے جن میں الزام لگایا تھا کہ ترین فیملی کے افراد نے پبلک لمیٹڈ کمپنی جے ڈی ڈبلیو سے اربوں روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے جو کہ غیر قانونی تھا۔ ایک مقدمہ منی لانڈرنگ جبکہ دوسرا بینکنگ فراڈ سے متعلق ہے۔ 
ایف آئی اے حکام کے مطابق ’بند کیے جانے والے 36 اکاؤنٹس میں سے چار اکاؤنٹس امریکی ڈالرز جبکہ دو برطانوی پاؤنڈز اور تین پاکستانی کرنسی کے اکاؤنٹس تھے۔ جہانگیر ترین نے دو روز قبل عدالت سے اپنی عبوری ضمانت کروانے کے بعد میڈیا کو بتایا تھا کہ ’ان کے اکاؤنٹس بند کیے جارہے ہیں۔‘
جہانگیر ترین جب ایف آئی اے کے دفتر آئے تو اس وقت ان کے ساتھ ان کا ایک سیکریٹری تھا۔ اس سے قبل جب انہوں نے عدالت سے عبوری ضمانت کروائی تو اس وقت تحریک انصاف کے متعدد ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ان کے ساتھ عدالت آئے تھے۔

شیئر: