Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

منی لانڈرنگ کے الزامات: جہانگیر ترین پر مزید دو مقدمات درج

جہانگیر ترین کے خلاف دونوں مقدمات ریاست پاکستان کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں (فوٹو: فیس بک جہانگیر ترین)
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ماضی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دست راست سمجھے جانے والے جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف دو نئے مقدمے درج کیے ہیں۔ 
اردو نیوز کو دستیاب ایف آئی آرز کے مطابق یہ دونوں مقدمے گزشتہ ہفتے 22 مارچ کو درج کیے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق ایک مقدمہ، جہانگیر ترین کے خلاف جاری انکوائری جو کہ اگست 2020 میں شروع کی گئی تھی اس میں ایسے شواہد پر درج کیا گیا ہے جس میں منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اس ایف آئی آر میں جہانگرترین پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے جے ڈی ڈبلیو نامی پبلک کمپنی سے تین اعشاریہ چار ارب روپے فراڈ کے ذریعے نکلوا کر ایک پرائیویٹ کمپنی میں منتقل کیے جن سے براہ راست فائدہ ترین فیملی نے اٹھایا۔ 
ایف آئی آر کے مطابق جس پرائیویٹ کمپنی میں یہ تین اعشاریہ چار ارب روپے کاروبار کی غرض سے ڈالے گئے وہ گجرات کی فاروقی فیملی کی کمپنی ہے جو بنیادی طور پر کاغذ کا گودا بنانے والی کپمنی تھی اور فاروقی پلپ ملز پرائیویٹ لمیٹیڈ گجرات کے نام سے 1991 میں بنائی گئی۔
تاہم کمپنی لکڑی سے کاغذ کا گودا بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور اس نے 1997 میں کام ختم کر دیا۔ اس طرح یہ کمپنی اپنا ٹرائل رن بھی پورا نہیں کرسکی۔
2007 میں جے ڈی ڈبلیو کے سی ای او جہانگیر خان ترین نے یہ کمپنی خرید لی اور اپنے معتمد خاص کو اس کا سی ای او بنا دیا۔ اور اس کے بعد ایک ناکام کمپنی میں ایک پبلک کمپنی کے تین ارب سے زائد روپے لگائے گئے۔ جبکہ جے ڈی ڈبلیو کے پبلک سٹیک ہولڈرز کو اس بارے میں نہیں بتایا گیا۔
2011 میں ایف پی ایم جی نامی کمپنی نے ایک مرتبہ پھر اپنا آپریشن بند کر دیا لیکن 2015 تک اس کے اکاؤنٹ میں پیسے ڈالے جاتے رہے۔ پیسوں کی اس طرح سے نقل و حمل کو جانتے بوجھتے ایک ناکارہ کمپنی میں اربوں روپے لگانا بنیادی طور پر فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سب سے زیادہ پیسے علی خان ترین کے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈالے گئے (فوٹو: فیس بک علی خان ترین)

دوسری ایف آئی آر میں اسی طرح کا ملتا جلتا الزام عائد کیا گیا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو نامی پبلک کمپنی سے جہانگر خان ترین نے فراڈ کے ذریعے دو اعشاریہ دو ارب روپے نکلوائے۔ اور یہ پیسے مختلف طریقوں سے ترین فیملی کے مختلف اکاؤنٹس میں ڈالے گئے۔ جن میں سے سب سے زیادہ پیسے ان کے بیٹے علی خان ترین کے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈالے گئے۔
اس ایف آئی آر میں لاہور کے سابق ڈی سی او اور سابق سیکرٹری ایگریکلچر رانا نسیم احمد کو بھی نامزد کیا گیا ہے جو کہ اس وقت جے ڈی ڈبلیو کے چیف آپریٹنگ آفسر ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ اپنی سرکاری نوکری کے دوران انہوں نے ترین خاندان کو بے پناہ فوائد دیے۔ اس ایف آئی میں ترین فیملی کی تین خواتین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ 
 ان دونوں ایف آئی آرز میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمے درج کرنے کی اجازت ایف آئی اے کی مجاز اتھارٹی نے دی ہے اور اب ان الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ دونوں مقدمات ریاست پاکستان کی مدعیت میں ایف آئی اے کے ذریعے درج کیے گئے ہیں۔

جہانگیر ترین کا موقف:

تحریک انصاف کے جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی چینلز سے گفتگو میں ایف آئی اے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ تمام بے بنیاد اور من گھڑت الزامات ہیں، میری اور میرے خاندان کے تمام اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں اور ہم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے مکمل ایمانداری سے بزنس کیا جو کہ خسارے میں چلا گیا، کسی ایک ڈائریکٹر کا ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ  تمام ریکارڈ موجود ہے اور ایف آئی اے کو دکھا دیا گیا ہے۔

شیئر: