Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لبنان میں ملک گیر بحران سے نمٹنے کے لیے فوجی مشقیں

فرانسیسی ماہرین کے ساتھ دیگر سیکیورٹی ادارے اور افسران شامل تھے۔(فوٹو عرب نیوز)
لبنانی فوج نے ملک گیر بحران سے نمٹنے کے لئے اپنی تیاری کو جانچنے کے لئے گذشتہ روز پیر کو بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق 'لبنان وسیع' فوجی مشق میں فرانسیسی ماہرین کے ساتھ فوج، داخلی سیکیورٹی فورسز، جنرل سیکیورٹی، ریاستی سیکیورٹی، جنرل نظامت کسٹمز، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس، لبنانی ریڈ کراس، یو این آر ڈبلیو اے، یو این ایچ سی آر  کے یونٹ اور ان کے افسران  شامل تھے۔
ان مشقوں میں قومی بحران کے دوران حفاظتی دستوں اور مقامی و بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ  مشن کو مربوط کرنے کے لئے یونٹوں کی صلاحیت کا اندازہ لگایا گیا۔
لبنان معاشی تباہی کا سامنا کر رہا ہے، عوام میں شدید غصے پایا جاتا ہے کہ انہیں گیس سٹیشنوں، فارمیسیوں اور سپر مارکیٹوں کے باہر لمبی قطاریں  لگانا پڑتی ہیں۔
دوسری جانب حکومت کے قیام میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کی  نئی کوشش میں لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری نے  گذشتہ روز پیر کو نامزد وزیر اعظم سعد حریری سے ملاقات کی ہے۔
سپیکرکے دفتر نے بتایا کہ یہ ملاقات دو گھنٹے جاری رہی ، اس دوران حکومتی معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکومت بنانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے  اس کے بارے میں مثبت ماحول میں تبادلہ خیال ہوا۔

لبنان معاشی تباہی کا سامنا کر رہا ہے اور عوام میں شدید غصے پایا جاتا ہے۔(فوٹو گلف نیوز)

سپیکرنبیہ بیری لبنان کے صدر میشل عیون اورسعد حریری کے ساتھ ثالثی کے خواہاں ہیں تاکہ وہ 24 وزراء کی حکومت تشکیل دینے پر راضی ہوجائیں ۔
گذشتہ سال 22 اکتوبر کو  ملک کی پارلیمنٹ کی اکثریت نے سعد حریری کو نئی حکومت تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اورانہوں نے 18غیر منقسم وزراء کی تشکیل کا مسودہ  میشل عیون کو پیش کیا جو صدر نےمسترد کردیا  تھا۔
لبنانی صدر نے پارلیمنٹ کو سعد حریری کےعلاوہ وزیراعظم کے لیے کسی دوسرے نام پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے کہا لیکن 22 مئی کو پارلیمنٹ نے حریری کو متفقہ طور پر تفویض کرنے کے اپنے عہد کی تصدیق کی۔

مشقوں میں قومی بحران کے دوران یونٹوں کی صلاحیت کا اندازہ لگایا گیا۔ (فوٹو العربیہ)

معاشی بحران کے دوران  لبنان میں گائے  اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں 100 سے زیادہ عام اشیائے خوردونوش پر سبسڈی دی جاتی تھی جو اب کم ہو کر صرف آٹھ تک محدود ہو گئی ہے۔
مالیاتی ذرائع نے گذشتہ روز عرب نیوز کو بتایا کہ نگراں حکومت سیکیورٹی اور معاشرتی بدحالی کے خوف سے اشیائے خوردونوش پر سبسڈی اٹھانے کی ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتی۔
مالیاتی ذرائع نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس وجہ سے  ایندھن کی سبسڈیوں کے خاتمے سے روٹی کی صنعت متاثر ہوگی۔
 

شیئر: