Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انڈیا کشمیر کو ریاستی درجہ دینے کے لیے پرعزم‘

کانگریس لیڈر غلام بنی آزاد نے کہا کہ ’ہم نے میٹنگ میں پانچ مطالبات سامنے رکھے‘ (فوٹو: ٹوئٹر، نریندر مودی)
انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے رہنماؤں کی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دہلی میں تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر کو ریاستی درجہ دینے کے لیے تیار ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق کانگریس لیڈر غلام بنی آزاد نے کہا ہے کہ ’ہم نے میٹنگ میں پانچ مطالبات رکھے، جن میں جلد ریاستی ردجہ دینا، جمہوریت کی بحالی کے لیے اسمبلی کے انتخابات، جموں و کشمیر میں ہندو پنڈتوں کی دوبارہ آبادکاری، تمام سیاسی رہنماؤں کی جیل سے رہائی اور ڈومیسائل رولز شامل ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘
اجلاس کے بعد کشمیری رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ ایک ترقی یافتہ اور ترقی پسند جموں و کشمیر کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے کا اہم اقدام ہے۔‘  
’ہماری ترجیح جموں و کشمیر میں بنیادی جمہورت کو مضبوط بنانا ہے۔ کشمیر میں حلقہ بندیاں جلدی ہونی چاہییں اور ایک منتخت حکومت قائم ہونا چاہیے جو کہ کمشیر کی ترقی کو مضبوط بنائے۔‘ 
مودی کا کہنا تھا کہ ’ہماری جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت میز پر بیٹھ کر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ میں نے کشمیری رہنماؤں کو بتایا کہ عوام خصوصاً نوجوانوں کو ہی کشمیر کو سیاسی قیادت حوالے کرنی ہے اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کی خواہشات پوری ہوں۔‘
نیوز ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ سیاسی اختلافات موجود ہیں، لیکن سب کو ملکی مفاد کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اور دل کی دوری اور دلی کی دوری نہیں ہونی چاہیے۔‘
سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’پہلے ہم نے حصوں میں تقسیم کیے جانے پرغصے کا اظہار کیا۔ ہم نے کہا کہ پیش رفت ہونی چاہیے اور اس کے لیے ریاستی درجہ اور الیکشن ضروری ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہمیں ضمانت چاہیے کہ زمین اور نوکریوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ پنڈتوں کی آبادکاری کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہییں۔‘
 غلام نبی آزاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملاقات میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ’حلقہ بندیوں کے بغیرالیکشن نہیں ہوسکتے جو کورونا کی وبا کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے۔‘
پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون نے کہا کہ میٹنگ خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ بقول ان کے ’ہم اس امید کے ساتھ باہر آئے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ ہوگا۔‘
جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے الطاف بخاری نے کہا کہ ’وزیراعظم مودی نے سب کی بات سنی اور سب کو حلقہ بندیوں میں حصہ  لینے کا کہا۔ ہمیں یقین دلایا گیا کہ یہ الیکشن کا روڈ میپ ہے۔‘
انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے میٹنگ انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور سب نے جمہوریت اور آئین کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا اظہار کیا۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق میٹنگ کے بعد امیت شاہ نے کہا کہ حلقہ بندیاں اور پرامن الیکشن کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ 
دریں اثنا جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’ریاستی حیثیت کی بحالی نئی دہلی کی جانب سے اعتماد کی بحالی کا پہلا قدم ہوگا۔‘
پاکستان کا موقف
پارلیمنٹری کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار آفریدی نے جمعرات کو ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کشمیر میں صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے زمینی حقائق حاصل کر رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوتوا پر یقین رکھنے والی انڈین حکومت کا اپنے حامیوں کے ساتھ بات چیت کرنا دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ انڈین حکومت کشمیر میں اپنے ہی ایجنٹوں سے بات کر رہی ہے اور انہیں غلط طریقے سے کشمیری رہنما کہہ رہی ہے۔‘
شہریار آفریدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ایسی صورت حال ہے، جس میں دہلی، دہلی سے بات کر رہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کشمیر میں انڈیا کی گیم کھیل رہے ہیں اور کشمیریوں کی اکثریت نے انہیں مسترد کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کشمیریوں کی اصل نمائندہ جماعت حریت ہے۔‘

شیئر: