Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سندھ: بنیادی سہولیات کی کمی کے سبب لڑکیاں سکول چھوڑنے پر مجبور

غربت کی وجہ سے خاندان بچیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے سے قاصر ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو صوبے میں لڑکیوں کی تعلیم میں درپیش مسائل کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ پیش کیا گیا جس کے مطابق تنگ نظری، بےلچک معیار، فرسودہ روایات اور مردوں کی اجارہ داری لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ ہیں۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ بنیادی سہولیات کی کمی جیسا کہ باؤنڈری وال، واش روم، پینے کا پانی نہ ہونے کے باعث لڑکیاں سکول چھوڑ دیتی ہیں۔ 
مذکورہ تحقیقی رپورٹ صوبائی محتسب اعلیٰ نے سندھ فاؤنڈیشن کے تعاون سے مرتب کیا جس کا مقصد ان محرکات کی نشاندہی کرنا تھا جو لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کردہ اس مقالے میں واضح کیا گیا کہ معاشرے کے سماجی، سیاسی اور مذہبی معیار خواتین کی معاشرے میں پہچان پیدا کرنے میں رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق سندھ کے دیہی اضلاع میں لڑکیوں کا پرائمری کے بعد سکول چھوڑنے کا ایک سبب مڈل، سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کی کمی ہے۔ جبکہ بنیادی سہولیات کے فقدان جیسا کہ باؤنڈری وال، واش روم، پینے کا پانی نہ ہونے کے باعث بھی ہر دوسری لڑکی سکول میں سیکنڈری یا ہائیر سیکنڈری تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
غربت اور کم آمدنی کی وجہ سے خاندان بچیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے سے قاصر ہیں۔
علاؤہ ازیں، چائلڈ لیبر خاندان میں آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے لہٰذا بیشتر والدین اپنی بچیوں کو سکول بھیجنے کے بجائے کام پر بھیجتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ مزکورہ تحقیق صوبائی حکومت کے لیے رہنمائی کا سبب بنے گی، اس  میں نہ صرف گرلز ایجوکیشن کے مسائل بتائے گئے ہیں بلکہ ان کا حل بھی تجویز کیا گیا ہے۔

تنگ نظری اور مردوں کی اجارہ داری لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

تحقیق کے مطابق سال 19-2018 میں ’آؤٹ آف سکول چلڈرن‘ کی تعداد میں نسبتاً کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن ابھی تک بچوں کی بڑی تعداد سکول سے باہر ہے۔
صوبائی محتسب کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں واضح کیا گیا کہ، ’بچوں کا سکول چھوڑ جانا، بالخصوص لڑکیوں کا، ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ بچے جب پرائمری تعلیم مکمل کرتے ہیں تو سیکنڈری میں جانے کے بجائے سکول چھوڑ دیتے ہیں۔‘
ماہرین کی تحقیق کے مطابق، ’تنگ نظری، بےلچک معیار، فرسودہ روایات اور مردوں کی اجارہ داری لڑکیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہیں۔‘
وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر جاری کردہ تحقیقی مقالے کے اجراء کے موقع پر صوبائی محتسب اعجاز علی خان، ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن قاضی کبیر، صوبائی سیکریٹریز، تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے افراد موجود تھے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے پر کام کیا ہے۔
’ہم تحقیق کی سفارشات کے مطابق گرلز ایجوکیشن کے لیے مزید وسائل کے انتظامات کریں گے۔‘

بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث بھی بچیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔ فوٹو اے ایف پی

وزیراعلیٰ سندھ نے معاشرے کے ہر خاندان کو لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔
’سندھ میں تعلیم مفت ہے، آپ اپنی بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کریں۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو گھر انسانیت کا احترام، مذہبی رواداری، انسانیت کی خدمت جیسے اصولوں کا علمبردار ہوگا۔‘

شیئر: