Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’علم کا مینار‘: الاحسا میں تاریخی مسجد شیخ ابوبکر کی تعمیرِ نو

مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے میں الاحسا کمشنری کے شہر الھفوف کی قدیم مسجد شیخ ابوبکر کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کر لیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مسجد ابوبکر کا قیام تقریبا 3 صدی قبل عمل میں آیا تھا۔ الھفوف شہر کے تاریخی علاقے الکوت میں واقع یہ مسجد الکوت کے قبرستان سے تقریباً 200 میٹر مشرق اور قصر ابراہیم سے 390 میٹر جنوب کی سمت واقع ہے۔
شیخ ابوبکر کے مکان اور دینی مدرسے کے قریب یہ مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اسی مدرسے کی نسبت سے بھی مسجد کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔
یہ مسجد اپنے قیام کے اولین دن ہی سے علم کا مینار رہی ہے، جہاں سے حفاظِ کرام اور دینی علوم کے ماہرین فارغ التحصیل ہوتے رہے ہیں۔
مسجد الشیخ ابوبکر اپنے طرزِ تعمیر کے حوالے سے الاحسا کی نمایاں شناخت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں بجری، چکنی مٹی اور کھجور کے تنوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

انتہائی سادگی سے تعمیر ہونے والی اس مسجد کا مجموعی رقبہ 565 مربع میٹر تھا جس میں توسیع  کے بعد مصلوں کی تعداد 125 سے بڑھا کر 166 تک کر دی گئی ہے۔
مسجد کا مرکزی ہال 5.65x13.7 میٹر کا ہے جبکہ بیرونی برآمدا 16.35x15.85 میٹر پر بنایا گیا ہے جس کا کچھ حصہ سایہ دار ہے جبکہ باقی حصہ کھلے صحن پر مشتمل ہے۔
مسجد میں دو کمرے گودام کے طور پر بنائے گئے تھے جن کا رقبہ 12.5 مربع میٹر تھا جبکہ امام کا رہائشی کمرہ 12.8 میٹرمربع پر مشتمل تھا۔ وضو خانے کا رقبہ 40 مربع میٹر تھا۔

 مسجد الشیخ ابوبکر کو علاقے کی تاریخ میں اہم مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں سے دینی و ثقافتی علوم کی روشنی نسلوں تک منتقل ہوتی رہی ہے۔
واضح رہے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت مملکت کے مختلف علاقوں میں قدیم مسجد کی بحالی کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں شامل ہے۔

 

شیئر: