Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آرامکو کا مشن 2050 تک صفر کاربن پروڈیوسر بننا ہے، امین ناصر

آرامکو چیف سعودی گرین انیشیٹو فورم کے سیشن سے خطاب کررہے تھے۔ (فوٹو عرب نیوز)
سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے کہا ہے کہ سعودی آرامکو 2050 تک نیٹ زیرو کاربن انرجی پروڈیوسر بن جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق  آرامکو چیف امین ناصرنے ریاض میں سعودی گرین انیشیٹو فورم کے سلسلے میں منعقدہ ایک سیشن سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ہے۔

آرامکو بجلی بنانے کے لیےخام تیل کو قدرتی گیس پر منتقل کرے گی۔ (فوٹو عرب نیوز)

خطاب کے دوران آرامکو کے سی ای او کا کہنا تھا کہ آرامکو آئل کمپنی 10 سال میں بجلی بنانے کے لیے خام تیل کو قدرتی گیس پر منتقل کر دے گی۔
امین ناصر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے پر عملدرآمد ایک پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے لیکن ہم اس تبدیلی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم پراعتماد ہیں اور  اس سے نمٹ سکتے ہیں اور کم خرچ کے لیے مستقبل میں ان  کوششوں کو بہتر کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر آرامکو کے چیف نے تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے توانائی کی منظم منتقلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ناصر امین کا کہنا ہے کہ دنیا کو کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے مستحکم  انرجی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

30 ارب ڈالر کے گرین پروجیکٹس میں حصہ لینے کی پیش گوئی کی ہے۔ (فوٹو ٹوئٹر)

آرامکو کے سربراہ نے کہا کہ آئل کمپنی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ہمارے پاس دنیا بھرمیں 12 ریسرچ سینٹر ہیں۔
ریسرچ سینٹرز کا محور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اور جامع و پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔
قبل ازیں سعودی عرب کی مشہور اورقابل تجدید منصوبے پیش کرنے والی واحد لسٹڈ کمپنی اکوا(اے سی ڈبلیو اے)پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پدی پدما ناتھن نے عرب نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کمپنی غیر قابل تجدید سکیموں میں سرمایہ کاری ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ 2050 تک خالص صفر کاربن انرجی کا مقصد حاصل کیا جا سکے۔

معیشت میں بہتری کے لیے یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ (فوٹو عرب نیوز)

اکوا پاورکمپنی  کے چیف پدما ناتھن نے عرب نیوز کو بتایا ہے کہ ہم کاربن کے اخراج کو کم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلی حقیقی ہے۔ 
توقع ہے کہ اکوا کمپنی 2030 تک سعودی عرب کی قابل تجدید سکیموں میں سے کم از کم 70 فیصد فراہم کرے گی۔ اس کےعلاوہ آئندہ 10سال میں تقریبا30 ارب ڈالرمالیت کے گرین پروجیکٹس میں حصہ لینے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ معیشت میں بہتری کے لیے یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
 

شیئر: