Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رینجرز کو کن قوانین کے تحت طلب کیا جاتا ہے اور ان کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

آرٹیکل 147 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت رینجرز کو طلب کیا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
وفاقی حکومت نے بدھ کو کالعدم  تحریک لبیک کے دھرنے سے نمٹنے کے لیے پنجاب میں 60 روز کے لیے رینجرز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رینجرز آرٹیکل 147 کے تحت دہشت گردی اور امن عامہ کی صورت حال سے نمٹنے میں پنجاب پولیس کی معاونت کریں گے۔ 
پنجاب حکومت کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والے درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 147 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 4 (2) کے تحت رینجرز کی خدمات 60 دن کے لیے پنجاب حکومت کے سپرد کی جائیں، تاکہ وہ پولیس کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی اور متعلقہ جرائم کے خاتمے میں مدد دے سکیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کے کسی صوبے نے امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں رینجرز کو طلب کیا گیا ہے بلکہ پاکستان میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مظاہروں، مذہبی تہواروں حتیٰ کہ انتخابات کی سکیورٹی کے لیے بھی پولیس ناکافی ہوجاتی ہے اور پیرا ملٹری فورس یعنی رینجرز کو طلب کیا جاتا ہے۔
گذشتہ ماہ ہی پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے لیے رینجرز کو طلب کیا گیا تھا اور حساس پولنگ سٹیشن کے باہر رینجرز نے گشت کیا تھا۔
رینجرز کو کب طلب کیا جاتا ہے؟
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس شوکت جاوید نے بتایا کہ عام طور پر رینجرز کو اس وقت طلب کیا جاتا ہے جب خلاف قانون اجتماعات کو پولیس کنٹرول نہیں کر سکتی۔
یاد رہے کہ آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاقی اہلکاروں کو صوبے میں ذمہ داری دے سکتی ہیں اور اسی شق کے تحت رینجرز کو طلب کیا جاتا ہے۔ تاہم اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت رینجرز کی تعیناتی کی مدت 60 دن ہے جس کے بعد متعلقہ صوبائی حکومت کو صوبائی اسمبلی سے اس تعیناتی کی منظوری لینا ہوتی ہے۔
شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ رینجرز کو اس لیے طلب کرنا پڑتا ہے کہ پولیس کے پاس ایسے ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے کافی صلاحیت نہیں ہوتی۔

پولیس نے تحریک لبیک کے مارچ کو گوجرانوالہ کے قریب روکا ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سابق آئی جی کے مطابق حکومت پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کرتی جس کے باعث رینجرز کو بلانا مجبوری بن جاتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صلاحیت سے مراد اسلحہ یا تربیت ہے تو سابق آئی جی کا کہنا تھا کہ اس سے مراد پولیس فورس کی تعداد بھی ہے جو بعض اوقات کافی نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ رینجرز چونکہ وفاقی وزارت داخلہ کے ماتحت ایک نیم فوجی محکمہ ہے اس لیے ضرورت پڑنے پر متعلقہ صوبائی حکومت وزارت داخلہ سے رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کرتی ہے۔ تاہم رینجرز کے اختیارات لا محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ صوبائی حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
اس سوال پر کہ گذشتہ عرصے میں کب کب رینجرز کو طلب کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں محرم کے جلوس کی حفاظت کے لیے بھی رینجرز کو طلب کیا گیا تھا۔
’پاکستان میں اکثر و بیشتر رینجرز کو طلب کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی ٹی ایل پی نے دھرنہ دیا تھا (فوٹو اے ایف پی)

بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران رینجرز بلانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ پولیس کے پاس صرف ڈنڈے تھے اور کالعدم جماعت کے پاس کلاشنکوف جیسے ہتھیار ہیں اس لیے ان کا پولیس اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جس کی وجہ سے رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے گذشتہ دور حکومت میں تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کے دوران جب حالات پولیس کے قابو سے باہر ہو گئے تھے تو اس وقت بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رینجرز کو طلب کیا تھا۔  

شیئر: