Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گردوارہ کرتارپور میں ’ننگے سر ماڈلنگ‘، تنقید پر فیشن برانڈ کی معذرت

سوشل میڈیا پر سکھ صارفین اسے ’ناقابل قبول‘ رویہ قرار دے رہے ہیں۔ (تصویر: منت کلاتھنگ/انسٹاگرام)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سکھ مذہب کے مقدس مقام گردوارہ کرتارپور صاحب کے احاطے میں ایک پاکستانی فیشن برانڈ کے فوٹوشوٹ پر سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اعتراض کر رہے ہیں۔
سکھوں کو اعتراض ہے کہ ماڈل نے کرتارپور صاحب میں ننگے سر ماڈلنگ کی اور ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔
تاہم فیشن برانڈ ’منت کلاتھنگ‘ نے تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر معذرت کر لی ہے۔ 
کمپنی کا کہنا ہے کہ تصاویر انہیں ایک بلاگر کی جانب سے مہیا کی گئیں تھیں جن میں ماڈل نے ان کے ملبوسات پہنے ہوئے ہیں۔
انڈیا میں مقیم سکھ رویندر سنگھ روبن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’خواتین کے لباس کے لیے گردوارہ کرتارپور صاحب کے احاطے میں لاہور کی ایک خاتون نے ماڈلنگ کرکے سکھوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔‘
انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد یہ تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی گئیں۔
یہ فوٹو شوٹ پاکستانی فیشن برانڈ ’منٹ کلاتھنگ‘ کی طرف سے کرایا گیا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ فیشن برانڈ نے اپنے کپڑوں کی قیمتیں 50 فیصد تک کم کر دی ہیں۔

تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ماڈل گردوارہ کی مرکزی عمارت کے سامنے بیٹھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین پاکستانی حکومت اور وزیراعظم عمران خان سے اس ’ناقابل قبول‘ رویے کو روکنے کی درخواست کر رہے ہیں۔
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں مقیم سکھ رہنما منجندر سنگھ سرسا نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ایسا رویہ اور حرکت گرو ناننک دیوجی کے مقدس مقام پر بالکل ناقابل قبول ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی حکومت کو پاکستانی لوگوں کو کرتارپور صاحب کو پکنک کی جگہ کی طرح ٹریٹ کرنے سے روکنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔‘
پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیزائنر اور ماڈل کو سکھ برادری سے معذرت کرنی چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور صاحب مقدس مقام ہے کوئی ’فلم کا سیٹ نہیں۔‘
فیشن برانڈ ’منت کلاتھنگ‘ نے معذرت کرتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہٹا لی ہیں۔ 
ایک انسٹاگرام پوسٹ میں کمپنی نے وضاحت کی کہ ’جو تصاویر ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لگائی گئی ہیں وہ کسی شوٹ کا حصہ نہیں۔‘
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تصاویر ہمیں ایک تھرڈ پارٹی (بلاگر) کی جانب سے مہیا کی گئیں تھیں جن میں وہ ہمارے ملبوسات پہنے ہوئے تھیں۔‘
تاہم فیشن برانڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں یہ مواد پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا اور ’ہم معذرت چاہتے ہیں ہر اس شخص سے جس کی دل آزاری ہوئی ہے۔ تمام مذہبی مقامات ہمارے لیے مقدس ہیں۔‘
 
 
 
 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by MANNAT (@mannat_clothing)

خیال رہے کہ کرتارپور پاکستان کے ضلع نارووال میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد سے چار کلومیٹر دور واقع ہے۔
سکھوں کے لیے یہ علاقہ اس لیے مقدس ہے کہ یہاں پر ان کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانگ نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے اور یہیں ان کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔
تقسیم ہند کے بعد یہ علاقہ پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ سرحد کے اس پار گردوارہ ڈیرہ بابا نانک موجود ہے۔

شیئر: