Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی امریکہ سے مایوس نظر آتے ہیں: شہزادہ ترکی الفیصل کا انٹرویو

پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات پر تفصیلی بات کی (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ اور لندن اور واشنگٹن میں سابق سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ’ایک ایسے وقت میں جب سعودی سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب کو خلیجی خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے درپیش خطرات کا سامنا کرنا چاہیے تو وہ مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔‘
عرب نیوز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے یمن میں ایرانی اثر و رسوخ اور حوثیوں کو ایک آلے کے طور پر اس کے استعمال کی خطرے کے طور پر نشان دہی کی۔
’اس کا مقصد نہ صرف سعودی عرب کو عدم استحکام سے دوچار کرنا بلکہ بحیرہ احمر، خلیج اور بحیرہ عرب کے ساتھ عالمی سمندری راستوں کی سلامتی اور استحکام پر اثرانداز ہونا بھی ہے۔‘
عرب نیوز کے پروگرام ’فرینکلی سپیکنگ‘ کی نئی میزبان کیٹی جینسن سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ’درحقیقت صدر بائیڈن نے حوثیوں کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کردیا ہے۔‘
’اس سے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات پر حملوں میں انہیں مزید حوصلہ دیا ہے اور مزید جارحانہ بنا دیا ہے۔‘
انٹرویو کے دوران شہزادہ ترکی نے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات، روس یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کے بارے میں اپنا نقطہ نظر ایسے وقت میں پیش کیا جب تیل کی قیمتوں اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا بہت سے سعودی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک نے انہیں دھوکہ دیا ہے، شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہمیشہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو سٹریٹجک سمجھا ہے۔‘
’ہم نے کئی برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور شاید اس وقت، یہ تعلقات نشیب میں سے گزر رہے ہیں، خاص طور پر جب سے امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کو الگ تھلگ کردیں گے۔‘
ان کے مطابق ’بلاشبہ، امریکی صدر نے اپنی بات پر عمل کیا۔ سب سے پہلے ان مشترکہ کارروائیوں کو روکا جو امریکہ نے یمن میں یمنی عوام کے خلاف حوثیوں کی بغاوت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مملکت کے ساتھ شروع کی تھیں۔‘
’اسی طرح کے دیگر اقدامات کے مابین (سعودی عرب کے ولی عہد) سے ملاقات نہ کرنے اور عوامی طور پر یہ اعلان کرنا کہ وہ ولی عہد سے ملاقات نہیں کریں گے۔‘
ان کے مطابق ’ایک مرحلے پر ایسے وقت میں سعودی عرب سے طیارہ شکن میزائل کی بیٹریاں واپس لے لی گئیں جب ایرانی ہتھیاروں کے ساتھ حوثی میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہے تھے۔‘

شیئر: