Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جولائی میں پتا لگ گیا تھا حکومت گرانے کی کوشش ہو رہی ہے: عمران خان

سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ سال جولائی میں پتا چلنا شروع ہو گیا تھا کہ مسلم لیگ ن ان کی حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اپنے ایک حالیہ پاڈ کاسٹ انٹرویو میں پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ انٹیلی جنس چیف سردیوں میں تبدیل نہ ہو۔
یوٹیوب پر اپ لوڈ کیے جانے والے انٹرویو میں سابق وزیراعظم نے پہلی بار جہانگیر ترین اور علیم خان کے ساتھ اختلافات پر بھی کھل کر بات کی۔ 
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ کےحوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ سردیوں میں آئی ایس آئی کے چیف کو نہیں ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ افغانستان میں خانہ جنگی کے امکانات تھے۔
عمران خان نے کہا کہ انہیں گزشتہ سال پتا لگ گیا تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا امکان ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر ہوں گے۔
’اس وقت جو ہمارا آئی ایس آئی کا چیف تھا وہ پانچ سال سے تھا۔ میں چاہتا تھا کہ سردیوں میں جو ہمارا سب سے مشکل وقت ہے اس دوران انہیں ہونا چاہیے۔ دوسرا مجھے پتا لگ گیا تھا کہ مسلم لیگ ن والے پوری منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور ان کی پوری کوشش سردیوں میں تھی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پچھلے جولائی سے پتا چلنا شروع ہو گیا تھا کہ انہوں (مسلم لیگ ن) نے حکومت گرانے کا پورا پلان بنایا ہوا ہے تو میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا انٹیلی جنس چیف تبدیل ہو جب تک کہ سردیاں نہ نکل جائیں۔ میں نے تو کابینہ میں کہا تھا۔ میں نے اوپنلی کہا تھا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان پر ہوئے بھی اور افغانستان آزاد ہونے کے بعد کئی فوجی شہید ہوئے ہیں۔

عمران خان کے مطابق شوگر انکوائری پر جہانگیر ترین سے اختلافات ہوئے۔ فوٹو: اے ایف پی

’جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آکر فائدہ اٹھانا تھا‘
سابق وزیراعظم نے انٹرویو میں کہا کہ علیم خان راوی پر 300 ایکڑ زمین خرید کر لیگل کرانا چاہتے تھے اور انہیں توقع تھی کہ اسے لیگل کرانے میں عمران خان ان کی مدد کریں گے۔
عمران خان کے مطابق زمین کے معاملے پر ہی علیم خان اور ان کے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں۔
عمران خان نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آکر فائدہ اٹھانا تھا۔
جہانگیر ترین سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ان کا مسئلہ چینی بحران تھا جس پر کمیشن بھی بنایا۔ جہانگیر ترین ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے جو ملک کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں، شوگر مافیا پر انکوائری بٹھائی تو جہانگیر ترین سے اختلافات ہو گئے۔‘
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اداروں میں کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے بیٹھے ہیں، ہمارے اداروں میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جو ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ہم کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے تھے، پارلیمنٹ میں اکثریت ملے گی تو ہی اقتدار میں آؤں گا۔
’امریکہ کو اب پاکستان میں جی حضوری کرنے والے مل گئے ہیں‘
امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اب پاکستان میں جی حضوری کرنے والے مل گئے ہیں، امریکہ کی جنگ میں ہمارے 80 ہزار لوگ مارے گئے، آزاد خارجہ پالیسی کا مطلب اینٹی امریکہ نہیں ہے۔
موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’کابینہ میں 60 فیصد لوگ اس وقت ضمانت پر ہیں۔ شہباز شریف کا 16 ارب روپے کا اوپن اینڈ شَٹ کیس ہے۔ شریف خاندان یا ضمانت پر ہے یا سزا یافتہ ہے۔ ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔‘
’میں نے کبھی عدلیہ کے ادارے میں مداخلت نہیں کی لیکن 20، 25 کروڑ روپے لے کر جنھوں نے حکومت گرائی، ابھی تک کسی عدالت نے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو بیچا اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن ہار بھی جائیں تو ان کو ٹکٹ نہیں دیں گے جو ذاتی مفاد کے لیے سیاست میں آتے ہیں۔
’ ہمارا سسٹم ایسا بنا ہوا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسے چلتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کا بیٹا پیسے دیتے پکڑا گیا لیکن اس کو چھوڑ دیا گیا۔‘

شیئر: