Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یوکرین میں پوتن کی ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات ’خطرناک‘

روس نے یوکرین پر فروری میں حملہ کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے اس تبصرے پر شُبے کا اظہار کیا ہے کہ ان کا یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک دن قبل صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ روس نے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی نہیں دی تھی اور اس نے مغربی رہنماؤں کے جوہری ’بلیک میل‘ کا جواب دیا تھا۔
نیوز نیشن کو ایک انٹرویو میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ’اگر اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا تو وہ کیوں مسلسل اس کے بارے میں بات کرتا ہے؟ وہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بات کیوں کر رہا ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ان کی اپروچ خطرناک ہے۔
حالیہ ہفتوں میں صدر پوتن اور دیگر روسی حکام نے بارہا کہا ہے کہ ماسکو اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔
اس سے قبل سی این این پر ایک انٹرویو میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ روس یوکرین کو موردالزام ٹھہرا کر ’ڈرٹی بم‘ کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ بم کے استعمال سے متعلق امریکہ نے ابھی تک ایسی کوئی علامت نہیں دیکھی۔
امریکی صدر نے کہا تھا کہ یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔
جوبائیڈن سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا روس ’فالس فلیگ‘ حملے کی تیاری کر رہا ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ اس کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔
روس نے اقوام متحدہ کو کہا تھا کہ یوکرین ’ڈرٹی بم‘ استعمال کرنے کی تیاری کر رہا ہے جس میں تابکاری مواد شامل ہے۔
ماسکو نے پیر کو اقوام متحدہ کو ایک خط بھیجا تھا جس میں اس نے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیری زیلنسکی نے ’ڈرٹی بم‘ سے متعلق روس کے الزامات مسترد کر چکے ہیں۔
روس نے یوکرین پر فروری میں حملہ کیا تھا جس کے بعد مغرب اور روس کے تعلقات کشیدہ ہے۔

شیئر: