آرٹیمس ٹو مون مشن میں سعودی عرب کا نمایاں کردار
شمس سیٹلائٹ کے ساتھ ساتھ سعودی سائنسدانوں نے مدار میں دیگر تحقیقات بھی کی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
مکہ ایجوکیشن اتھارٹی کے زیراہتمام منگل کو منعقد کیے جانے والے ورچوئل سیمینار میں ایک ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا جہاں ناسا کے حالیہ مون مشن میں سعودی عرب کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس سیشن کا نام ’سعودی عریبیہ ٹوورڈز سپیس کنٹریبیوشن ٹو دی آرٹیمس ٹو مشن‘ تھا جس میں فلکیات اور سپیس سائنس کے ماہرین نے شرکت کی۔
شرکاء میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے کالج آف ایسٹرونومی اینڈ سپیس سائنسز کے فیلکٹی ممبران ڈاکٹر عاید سلیمان الرحیلی اور ڈاکٹر سمیرہ الحربی شامل تھے۔
سائنسدانوں نے انسانی خلائی پروازوں کی ترقی پر ایک تفصیلی پریزینٹیشن دی۔ سپیس میں سفر کی تاریخ کا جائزہ لیا اور ناسا کے حالیہ آرٹیمس ٹو مشن پر بات کی۔
الرحیلی نے شمس سیٹلائٹ کے ذریعے خلا میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔
کیوب سیٹ نامی چھوٹی سیٹلائٹ سعودی سپیس ایجنسی نے بنائی تھی اور یہ ناسا کے خلابازوں کے ساتھ چاند کے مدار میں شامل ہوئی تھی۔
شمس سیٹلائٹ سیپس ٹیکنالوجیز میں قومی صلاحیتوں کی ترجمانی کرتی ہے اور سیپس ویدر اور سولر ریڈی ایشن میں مملکت کی جانب سے کی جانے والی سائنسی تحقیق میں حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
شمس سیٹلائٹ کے ساتھ ساتھ سعودی سائنسدانوں نے مدار میں دیگر تحقیقات بھی کی ہیں جن میں ریانہ برناوی شامل ہیں جس سے خلائی سفر کے دوران انسانی بیماریوں پر پڑنے والے اثرات سے متعلق جرنل جنوری میں سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوا تھا۔

اس سیمینار میں کئی طلبہ اور سپیس کے دلدادہ افراد شریک ہوئے اور میزبان نے وژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے طلبہ کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ سیشن سپیس کے مستقبل اور اس شعبے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار پر اوپن ڈائیلاگ پر اختتام پذیر ہوا۔
