Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی خواتین نے ریاض میں 'پبلک ریلیشنگ کمیونیکیشن' آفس کھول لیا

خواتین کو بااختیار بنانے اور تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے یہاں بہت ٹیلنٹ ہے۔ فوٹو عرب نیوز
دو امریکی خواتین گیون ونڈرلیچ اور دارا کپلان نے نیویارک کی ذہانت، میامی کے مزاج اور سعودی جذبے کے ساتھ مقامی خواتین کو بااختیار بننے کے عزم  کو سراہتے ہوئے یہاں کام کرنے کا موقع حاصل کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق دو دہائیوں سے زیادہ کے تجربے اور مضبوط دوستی کے ساتھ دونوں خواتین کی قیادت میں امریکہ میں قائم  پبلک ریلیشنگ فرم 'ونڈرلیچ کپلان کمیونیکیشن' نے ریاض میں اپنی پہلی برانچ کا آغاز کیا ہے۔

العلا کے رائل کمیشن کے ساتھ کام کیا جو انتہائی خوشگوار تجربہ ہے۔ فوٹو عرب نیوز

اس موقع پر گیون ونڈرلیچ نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی طور پر ہماری برانچ میں یہ ایک نیا اضافہ ہو گا جو مشرق وسطی اور شمالی افریقہ (مینا) ریجن کے لیے یہاں سے کام کرے گی۔
پی آر کمیونیکیشنز مقامی کمپنیوں اور امریکی کمپنیاں جو سعودی عرب میں آکر کام کرنے کی خواہشمند ہیں ان کے لیے مارکیٹنگ برانڈنگ پر کام کرنے کی توقع رکھتی ہے۔
پی آر کمیونیکیشنز نے مملکت میں اپنے پہلے باضابطہ  منصوبے کا آغاز دسمبر 2022 میں جدہ آرٹ پروجیکٹ کے ساتھ کیا تھا جو فارمولا ون کے  موقع پر ہوا تھا۔
امریکی خواتین نے بتایا ہے کہ ہم نے اس بار یہاں  سعودی پارٹنر نور طاہر کے ساتھ شراکت داری  میں کام کا آغاز کیا ہے۔
نور طاہر ہمیں یہاں لے کر آئیں اور ہمارے ساتھ  کھلے دل کے ساتھ شراکت داری پر راضی ہوئیں کہ  آپ ہمارے لیے بڑے پروجیکٹس لے کر آئیں، ہماری رہنمائی کریں۔

 یہاں کام کی خواہشمند امریکی کمپنیوں کےلیےمارکیٹنگ برانڈنگ کریں گی۔ فوٹوانسٹاگرام

انہوں نے بتایا کہ مملکت کے دارالحکومت میں خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے بہت ٹیلنٹ ہے اور یہاں کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ کرنا ہمارے لیے بہت ہی لاجواب ہے  کیونکہ ہم ایک طرح سے یہاں یہ سب کچھ پہلی بار دیکھ رہی ہیں، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ نئی معلومات جس کے بارے میں اس سے قبل نہیں سنا تھا۔
ونڈرلیچ نے بتایا کہ ہم نے شروع میں یہاں فارمولا ون کے آغاز کے موقع پر کام کیا، میں نے ایلیسیا کیز کے کنسرٹ اور ویمن ٹو ویمن ایونٹ پر کام کیا۔
العلا میں ہونے والی ایک تقریب میں شہزادی ریما اور دیگر خواتین کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ونڈرلیچ کو معلوم تھا کہ وہ تاریخ کا حصہ بن رہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ میں جانتی ہوں کہ وہ پروقار تقریب شاید میری پسندیدہ تقریبات میں سے ایک تھی۔

ہم نے شروع میں یہاں فارمولا ون کے آغاز کے موقع پر کام کیا ہے۔ فوٹو انسٹاگرام

ونڈرلیچ نے بتایا کہ مملکت کے  اپنے پہلے سفر میں انہیں  خواتین کے بااختیار ہونے کے حوالے سے کچھ غلط فہمی تھی کہ شاید انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے لیکن مجھے جلد احساس ہوگیا کہ ان خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے میری ضرورت نہیں وہ پہلے سے ہی حیرت انگیز، مضبوط، تعلیم یافتہ اور باوقار خواتین ہیں۔
یہ سب کچھ میرے لیے چشم کشا تھا اور میں نے بہت سی مقامی خواتین سے بات کی،اس بات چیت نے مجھے مجبور کیا کہ  یہ سب کچھ میری سوچ کے مطابق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ مملکت میں خواتین کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے، وہ  یہاں خواتین کے بارے میں مغربی میڈیا کے تاثرات پر حیران ہیں، وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ لوگوں کے پاس مملکت میں خواتین کے بارے میں زیادہ واضح اور درست تصور ہو۔
اس سے قبل ونڈرلیچ نے پانچ بار مملکت کا دورہ کیا اور کپلن دو بار یہاں آئی ہیں لیکن جب ان کا جیکس آفس یہاں کام کرنا شروع کردے گا تو وہ اکثرخود یہاں موجود ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم  یہاں کی خواتین سے ملاقاتیں کرنا چاہتی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ لوگ ہم سے دلچسپ پروجیکٹس کے لیے رابطہ کریں۔ اس سے قبل ہم نے العلا کے رائل کمیشن کے ساتھ کام کیا ہے جو انتہائی خوشگوار تجربہ ہے۔

شیئر: