Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غصہ بھڑکانے اور تفرقہ پیدا کرنے کے لیے قرآن مجید جلایا گیا: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ٹرک کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیزی کے ذریعے تشدد کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا چاہے۔ فوٹو: اے ایف پی
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے سویڈن میں قرآن مجید نذرآتش کرنے کے واقعے پر کہا کہ وہ ان لاکھوں افراد سے بے حد ہمدردی رکھتے ہیں جن کے عقائد اور اقدار کو نشانہ بنایا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق والکر ٹرک نے کہا کہ قرآن مجید کو جلانے سمیت دیگر واقعات غصے کو بھڑکانے، تفرقہ پیدا کرنے اور نقطہ نظر کے اختلاف کو نفرت اور تشدد میں بدلنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 53 ویں سیشن میں قرآن مجید جلانے کے واقعے اور مذہبی منافرت کے مسئلے پر بحث ہوئی۔
والکر ٹرک کا کہنا تھا کہ ’مذہبی علامتیں بہت گہری اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ایک ہلال، ایک ستارہ، ایک کراس، ایک بیٹھی ہوئی شخصیت: کچھ کے لیے، یہ خاص معنی نہیں رکھتیں لیکن لیکن لاکھوں لوگوں کے لیے ان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا خاص کردار ہوتا ہے کہ وہ تمام مقدس مقامات اور علامتوں کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے جارحانہ کارروائیوں کو روکیں۔
’ان سب کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اشتعال انگیزی کے ذریعے تشدد کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا چاہے وہ حقیقی ہو یا فرضی۔‘
بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے، والکر ٹرک نے کہا کہ ریاستوں کو قومی، نسلی یا مذہبی منافرت جو امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد پر اکساتی ہو پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔
’تاہم آزادی رائے اور اظہار رائے کی بالادستی کے حق پر کسی بھی قومی پابندی کو وضع کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا واحد مقصد افراد کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو، بجائے اس کے کہ مذہبی نظریے کو تنقیدی جائزے سے بچایا جائے۔‘
انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مذہب یا عقائد کی بنیاد پر عدم رواداری کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھائیں۔

شیئر: