Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کولکتہ ہائی کورٹ کا ’اکبر‘ اور ’سیتا‘ کے نام تبدیل کرنے کا حکم

ہائی کورٹ نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ کیا آیا وہ اپنے پالتو جانوروں کا نام مقدس ہستیوں کے نام پر رکھیں گے؟ (فائل فوٹو: وکی پیڈیا)
کولکتہ ہائی کورٹ نے بنگال سفاری پارک میں قید ’اکبر‘ اور ’سیتا‘ نامی شیر اور شیرنی کے نام تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’بار اینڈ بینچ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کو کولکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ بنگال سفاری پارک میں موجود اکبر اور سیتا نامی شیر اور شیرنی کے نام تبدیل کیے جائیں۔
اکبر اور سیتا نامی شیر اور شیرنی کو بنگال سفاری پارک میں ایک ہی جنگلے میں رکھا گیا ہے۔
ہائی کورٹ نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے پالتو جانوروں کا نام مقدس ہستیوں کے نام پر رکھیں گے؟
سماعت کے دوران جسٹس سوگاتا بھٹاچاریا نے کہا کہ ’سیتا کو ملک میں عوام کی بڑی تعداد خدا مانتی ہے جبکہ اکبر ایک مغل بادشاہ تھا۔‘
کولکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کی سماعت مذہبی جماعت وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی پیٹیشن پر کی تھی۔
وشوا ہندو پریشد نے پیٹیشن میں بنگال حکومت کی جانب سے شیر اور شیرنی کو ایک ساتھ رکھنے کی مخالفت کی تھی جبکہ اس جماعت نے شیر اور شیرنی کے نام بھی تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔
دوسری جانب مغربی بنگال کی حکومت کی جانب موقف اپنایا گیا ہے کہ شیر اور شیرنی کے نام بنگال سفاری پارک منتقلی سے پہلے 2016 اور 2018 میں تریپُورا زُو (چڑیا گھر) کی انتظامیہ نے رکھے تھے۔
اس پر ہائی کورٹ نے کہا کہ ’آپ شیر اور شیرنی کا نام بجلی وغیرہ بھی رکھ سکتے تھے۔ سیتا اور اکبر نام رکھنے کی کیا ضرورت پڑی۔‘
یہاں خیال رہے کہ بنگال حکومت کے وکیل نے ہائی کورٹ کو یقین دہائی کروائی ہے کہ شیر اور شیرنی کے نئے نام رکھے جائیں گے تاہم انہوں نے اس بات کی بھی درخواست کی عدالت وشوا ہندو پریشد کی پیٹیشن کو خارج کر دے۔

شیئر: