ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب نے سنیچر کو آٹھ ایسے افراد کو گرفتار کیا جن پر شبہ ہے کہ وہ حساس مقامات کے کوآرڈینیٹس اور سینیئر فوجی شخصیات کے بارے میں تفصیلات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں
-
امریکہ کے ساتھ جاری معاملات ناقابلِ حل ہیں: ایرانی سپریم لیڈرNode ID: 893728
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جون میں ایران کے خلاف اسرائیل کی فضائی جنگ کے دوران موساد کے لیے جاسوسی کی اور دُشمن ایجنسی کو معلومات فراہم کیں۔
جون میں اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ ان اسرائیلی حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ساتھ عام شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ سنہ 1980 کی عراق سے جنگ کے بعد یہ ایران کے لیے بدترین دھچکا تھا۔
ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل کے فوجی مقامات، انفراسٹرکچر اور شہروں پر میزائلوں داغے تھے۔ اسرائیل ایران جنگ کے دوران امریکہ نے 22 جون کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ایک بیان میں الزام لگایا گیا کہ گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد نے آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے موساد سے خصوصی تربیت حاصل کی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان افراد کو شمال مشرقی ایران میں ان کے منصوبوں کو انجام دینے سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا، اور یہ کہ ان سے لانچرز، بم، دھماکہ خیز مواد اور بوبی ٹریپس بنانے کا مواد ضبط کیا گیا تھا۔
سرکاری میڈیا نے رواں ماہ کے آغاز میں خبر دی تھی کہ ایرانی پولیس نے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران 21 ہزار کے لگ بھگ ’مشتبہ افراد‘ کو گرفتار کیا تھا۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے یہ نہیں بتایا تھا کہ گرفتار کیے گئے افراد پر کیا الزامات ہیں۔