Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بیرون ممالک میں مقیم افراد کے بینک اکاؤنٹس ہیک کرنے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہاں سے ایک منظم ٹیم کی صورت میں مختلف طریقوں سے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا (فوٹو: اے پی پی)
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 میں قائم ایک بظاہر عام مگر درپردہ غیرقانونی کال سینٹر پر ہونے والی حالیہ کارروائی نے سائبر کرائم کی ایک منظم، خاموش اور بین الاقوامی سطح تک پھیلی ہوئی دنیا کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ کارروائی محض ایک چھاپہ نہیں بلکہ کئی ماہ پر محیط خفیہ نگرانی، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور مالیاتی لین دین کی جانچ کے بعد ممکن بنائی گئی، جسے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی اب تک کی اہم ترین تحقیقات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کال سینٹر کی سرگرمیوں پر پہلی بار اس وقت شک پیدا ہوا جب بیرون ملک مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان سے جڑی مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی گئی۔
ان اطلاعات کے بعد این سی سی آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم نے کراچی میں ممکنہ لوکیشنز کی خاموش نگرانی شروع کی۔ ڈی ایچ اے فیز 6 کی ایک نجی عمارت، جہاں روزانہ مخصوص اوقات میں محدود افراد کی آمد و رفت ہو رہی تھی، تحقیقاتی ٹیم کی توجہ کا مرکز بنی۔ عمارت کے اندرونی حصوں میں رات گئے تک انٹرنیٹ کے غیرمعمولی استعمال، متعدد آئی پی ایڈریسز اور انکرپٹڈ سافٹ ویئرز نے شکوک کو یقین میں بدل دیا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یہاں سے ایک منظم ٹیم کی صورت میں مختلف طریقوں سے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ گرفتار ہونے والے ملزمان ایلون، ملک نثار، شیراز طارق، شہریار طارق اور وائز اس نیٹ ورک کے فرنٹ لائن آپریٹرز تھے۔ جو خود کو بین الاقوامی بینکوں یا ٹیکنیکل سپورٹ کمپنیوں کا نمائندہ ظاہر کر کے متاثرین سے حساس معلومات حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں انہی معلومات کی بنیاد پر بینک اکاؤنٹس تک غیرقانونی رسائی حاصل کر کے رقوم مختلف اکاونٹس میں منتقل کی جاتیں تاکہ رقم کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔
چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے شواہد نے اس نیٹ ورک کی وسعت کو مزید واضح کیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے موقع سے 11 سی پی یوز، ایک لیپ ٹاپ، 13 موبائل فونز اور جدید ہیکنگ ڈیوائسز سمیت دیگر سامان برآمد کیے ہیں۔ ابتدائی فرانزک تجزیے کے مطابق ان ڈیوائسز میں سیکڑوں بین الاقوامی نمبرز، جعلی ای میل ٹیمپلیٹس اور آٹو کالنگ سافٹ ویئر موجود تھے جو کئی مہینوں سے استعمال ہو رہے تھے۔

2025  کے دوران ایسے غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو محض اتفاقی کارروائیاں قرار نہیں دیا جا رہا (فوٹو: پکسابے)

ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کے روابط پاکستان کے دیگر شہروں میں کام کرنے والے مشکوک کال سینٹرز سے بھی ملے ہیں، جس سے یہ شبہ مضبوط ہو گیا ہے کہ یہ ایک وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اسی بنا پر بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ بیرون ملک موجود مرکزی ملزم کو قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔
2025  کے دوران ایسے غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو محض اتفاقی کارروائیاں قرار نہیں دیا جا رہا بلکہ ماہرین کے مطابق یہ ایک وسیع قومی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر سائبر فراڈ کے لیے محفوظ ٹھکانہ بننے سے روکنا ہے۔
اسی سلسلے میں لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان میں بھی درپردہ کام کرنے والے متعدد کال سینٹرز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، تاہم ڈی ایچ اے فیز 6 کا کیس اس لیے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ یہاں سے ملنے والا ڈیٹا دیگر نیٹ ورکس تک پہنچنے کی کلید بن سکتا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے مالی پہلوؤں کی جانچ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اب تک موصول ہونے والے ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کروڑوں روپے کی رقم مختلف ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی۔

ایڈوکیٹ عثمان فاروق کے مطابق یہ کیس پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف ایک مضبوط نظیر بن سکتا ہے (فوٹو: پکسابے)

ماہرین کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 6 میں ہونے والی یہ کارروائی اب ایک کیس اسٹڈی کی حیثیت اختیار کرتی نظر آرہی ہے، جسے مستقبل میں کال سینٹر فراڈز کے خلاف ایک ماڈل آپریشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قانونی امور کے ماہر ایڈوکیٹ عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس کی تفتیش شفاف اور مضبوط انداز میں مکمل کی گئی تو یہ پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف ایک مضبوط نظیر بن سکتا ہے۔ اداروں کا مؤقف ہے کہ عوام کے ڈیجیٹل اثاثوں اور مالی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں مستقبل میں مزید تیز کی جائیں گی، اور ڈی ایچ اے فیز 6 کا یہ واقعہ اس وسیع تر جدوجہد کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

 

شیئر: