وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس کی وصولی کو بڑھانے کے لیے ٹیکس چوروں کی اطلاع دینے والوں کو غیر معمولی انعام دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ایسے افراد جو ٹیکس چوروں کی اطلاع دیں گے ان کو 15 کروڑ روپے تک انعام دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق، ایف بی آر نے ٹیکس ڈیفالٹرز پر نظر رکھنے کے لیے ایک طریقہ وضع کیا ہے جس میں ٹیکس چوری کی اطلاع دینے والوں کو بھاری انعامات دینے کا اعلان کے ساتھ ان کا نام صیغۂ راز میں رکھنے اور قریبی رشتہ داروں، گھریلو ملازمین اور ہمسائیوں سے غیر رسمی طور پر معلومات اکٹھی کرنے کے طریقے بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ اقدام ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس کیسوں کی تیز رفتار انویسٹیگیشن کو یقینی بنانے کا حصہ ہے۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں ایف بی آر کے دیگر نئے ٹیکس اقدامات، جیسے بینک اکاؤنٹس تک براہ راست رسائی، فنڈز کی ضبطی اور سوشل میڈیا پر امیر افراد کی ویڈیوز کی بنیاد پر چھان بین نے پہلے ہی ہلچل مچا رکھی ہے۔
ایف بی آر کا مجوزہ نیا طریقہ: اطلاع دہندگان کو بھاری انعامات
کارپوریٹ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلی افسر رازداری کی شرط پر بتایا کہ ’حال ہی میں ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کے اندر سے ایک وسل بلور نے 25 ارب روپے ٹیکس فراڈ کی نشاندہی کی تھی جس کے بعد اس کمپنی کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد یہ نئی سکیم وضع کی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس فراڈ کرنے والوں کے بارے میں درست اور جلد معلومات حاصل کی جا سکیں۔ایف بی آر نے ٹیکس ڈیفالٹرز کی نشاندہی کرنے والے افراد کو ان کی معلومات کی بنیاد پر بھاری مالی انعامات دینے کا مجوزہ پلان جلد نافذ العمل ہو گا۔‘
خیال رہے کہ موجودہ مالی سال کے لیے ایف بی آر نے 14 ہزار131 ارب روپے وصولی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس نئی پالیسی کے مطابق یہ انعامی سکیم عام شہریوں، سابق ٹیکس افسران یا حتیٰ کہ سوشل میڈیا صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔
یہ مجوزہ طریقہ فنانس ایکٹ 2025 کے تحت متعارف ہونے والے دیگر اقدامات کا حصہ ہے، جس میں ٹیکس ریٹس میں اضافہ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
پرانی اور نئی سکیم میں فرق

یاد رہے کہ ایف بی آر نے سال 2017 سے وسلر بلور سکیم متعارف کروا رکھی ہے۔ جبکہ ٹیکس چوری کی اطلاع دینے والوں کو ٹیکس کی کل رقم کا 5 سے 20 فیصد دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
جبکہ ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار کے تحت اس سکیم کی وجہ سے مالی سال 2018 میں 21 ارب روپے سے زائد کی ریکوری ہوئی تھی۔
اسی طرح 2021 میں اس سکیم کو اپ گریڈ کرتے ہوئے ریکوری کی رقم کا 20 فیصد کی گئی تھی جس کی زیادہ سے زیادہ حد 50 لاکھ روپے انعامی رقم رکھی گئی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انعامی رقم کو پچاس لاکھ سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے تک کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر امیر افراد کی ویڈیوز












