Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا جزیرہ زیارت حسن شاہ کو ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا جائے گا؟

سمندر کی لہریں جب کراچی کے مشرقی ساحل سے ٹکراتی ہیں تو وہ صرف ریت کو نہیں چھوتیں بلکہ کئی اَن کہی کہانیوں کو بھی آواز دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خاموش مگر دلکش کہانی زیارت حسن شاہ جزیرے کی ہے، جو ’رشین بیچ‘ کے قریب واقع ہے اور اب وفاقی حکومت کے نئے سیاحتی وژن اور بلیو اکانومی کے تصور کا حصہ بننے جا رہا ہے۔
چار کلومیٹر تک پھیلا یہ جزیرہ جس کی چوڑائی 100 سے 500 میٹر کے درمیان ہے ایک خاموش مگر دلکش فطری منظر پیش کرتا ہے۔
اس کا جنوب مشرقی ساحل سنہری ریت سے ڈھکا ہوا ہے جہاں صبح اور شام کے وقت سورج کی روشنی ریت پر ایک خاص چمک چھوڑتی ہے۔
سیاح اکثر یہاں سمندری ہوا میں خوشبو، ریت پر پاؤں کے نشانات اور سمندر کی ہلکی لہروں کی سرگوشیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ جزیرہ ابھی تک تعمیر و ترقی سے دور ہے اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
صنعتی شور سے دور، خوبصورت ساحل، پرندوں کی چہچہاہٹ اور شفاف پانی کا ملا جلا نظارہ اس جزیرے کے قدرتی حسن کو اور بھی دلکش بنا دیتا ہے۔
اسی خاموشی میں ہر سیاح کے دل میں تبدیلی اور سکون کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ رشین بیچ سے حسن زیارت تک کراچی کی ساحلی پٹی، خاص طور پر رشین بیچ، اپنی کشادگی، موسم کی تازگی اور شام کے حسین مناظر کے باعث مقامی لوگوں میں بے حد مقبول ہے۔
رشین بیچ کے کنارے سمندر کے ساتھ چلتے ہوئے اگر آپ نظر اٹھائیں تو مشرق میں ایک چھوٹا سا جزیرہ دکھائی دیتا ہے۔
رشین بیچ جو کبھی کراچی کے معروف اور مصروف ساحلی مقامات میں شمار ہوتا تھا دوبارہ توجہ کا مرکز بننے کی امید کر رہا ہے۔
1970 کی دہائی میں رشین بیچ اپنی قدرتی خوبصورتی اور پُرسکون ماحول کے باعث نہایت مقبول تھا۔ پاکستان سٹیل ملز کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں سٹیل ملز میں کام کرنے والے غیرملکی شہری اور ان کے اہل خانہ بڑی تعداد میں تفریح کی غرض سے آیا کرتے تھے جس سے اس ساحلی علاقے میں خاصی رونق رہتی تھی۔
تاہم وقت کے ساتھ جب سٹیل ملز کے حالات بگڑے اور غیرملکی کراچی سے واپس چلے گئے تو رشین بیچ بھی رفتہ رفتہ ویرانی کا شکار ہو گیا اور اس کی چہل پہل ماند پڑ گئی۔
زیارت حسن جزیرے کو اب سیاحتی مرکز بنانے کا منصوبہ اس ساحلی خطے کو ایک بار پھر زندگی دینے کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دُنیا بھر میں سمندر کے کنارے سیاحتی ترقی سے ماحولیاتی تحفظ کے تقاضے بھی بڑھ رہے ہیں۔ فوٹو: اردو نیوز

زیارت حسن شاہ جزیرے کا بدلتا چہرہ 

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے چند روز قبل یہ اعلان کیا کہ ’کراچی کے قریب واقع زیارت حسن شاہ جزیرے کو ایک ماحولیاتی طور پر محفوظ اور جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد محض تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ پاکستان کی پوری ساحلی پٹی کو بلیو اکانومی کے تصور کے تحت مضبوط بنانا بھی ہے۔ اس منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے تاکہ سمندر، ساحل اور جزیرے کی قدرتی ساخت اور حیاتیاتی توازن برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ ’منصوبے کے تحت جزیرے پر ایکو فرینڈلی سیاحت کو فروغ دیا جائے گا جس میں کھیلوں، تفریح اور لائف سٹائل سے متعلق ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے جو مقامی اور غیرملکی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہوں گے۔ علاوہ ازیں انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی توجہ دی جائے گی اور جزیرے کو کراچی کے ایسٹرن زون سے زمینی راستے کے ذریعے منسلک کیا جائے گا تاکہ وہاں تک رسائی آسان ہو اور سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو سکے۔‘
وفاقی حکومت کے مطابق اس منصوبے پر ابتدائی طور پر ایک سے ڈیڑھ ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام پاکستان کی بحری معیشت کو نئے پہلوؤں سے تقویت دے گا اور ساحلی علاقوں کو معاشی ترقی کے ایک مضبوط انجن میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ماحولیاتی چیلنجز اور مواقع

ایک طرف جیسے جیسے دنیا بھر میں سمندر کے کنارے سیاحتی ترقی ہو رہی ہے، اسی طرح ماحولیاتی تحفظ کے تقاضے بھی بڑھ رہے ہیں۔ زیارت حسن جزیرہ ایک حساس ساحلی ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے جہاں جنگلی حیات، سمندری نباتات اور ساحلی ماحول ایک نازک توازن میں ہیں۔
حکومت نے اس منصوبے کے تحت اس نظام کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنا اہم قرار دیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے منصوبوں سے مقامی سیاحت بڑھ سکتی ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ ترقیاتی منصوبہ اگر عالمی معیار کے ماحولیاتی اصولوں کے ساتھ چلایا جائے تو نہ صرف قدرتی حسن برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ مقامی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
کراچی کے رہائشی برسوں سے سمندر اور ساحل کے قریب وقت گزارنے کے خواہش مند رہے ہیں۔ سی ویو، ہاکس بے، ٹرٹل بیچ، سنہرہ، مبارک ویلج اور رشین بیچ جیسی جگہوں پر جا کر سمندر کی لہروں کو دیکھنا، یا صبح کی تازہ ہوا میں چہل قدمی کا لطف اٹھانا کراچی والوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ اب جب قریب ہی ایک جزیرہ ترقی کے مرحلے میں ہے تو شہریوں میں ایک امید اور تجسس کی لہر پیدا ہوئی ہے کہ آیا یہ مقام مقامی معیشت، سہولیات اور تفریح کے نئے مواقع فراہم کرے گا یا نہیں؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے منصوبوں سے نہ صرف مقامی سیاحت بڑھ سکتی ہے بلکہ شہر کی ساحلی ثقافت بھی اجاگر ہو سکتی ہے جو کراچی کو ایک متحرک سمندری سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
زیارت حسن جزیرہ پاکستان کی بلیو اکانومی کا ایک ابھرتا ہوا باب ہے جسے ایک موزوں سیاحتی مرکز بنانے کا خواب دیکھا جا رہا ہے، ایک ایسا مقام جو نہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرے بلکہ معیشت، ماحول اور مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی لائے۔
واضح رہے کہ ماضی میں بھی کراچی کے قریب واقع جزیروں کو سیاحتی مقاصد کے لیے ترقی دینے کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں تاہم یہ منصوبے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

حکومت کے مطابق اس منصوبے پر ابتدائی طور پر ڈیڑھ ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

مختلف ادوار میں وفاقی سطح پر جزیروں کو تفریحی اور تجارتی مراکز میں تبدیل کرنے کی بات کی گئی لیکن سندھ حکومت اور مقامی آبادی کی جانب سے شدید تحفظات اور مزاحمت کے باعث ان منصوبوں کو روک دیا گیا۔
صوبائی حکومت اور مقامی افراد کا مؤقف رہا ہے کہ ان جزیروں پر کسی بھی قسم کی ترقی مقامی افراد کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور ساحلی وسائل کے تحفظ کو متاثر کر سکتی ہے، اسی لیے ایسے فیصلے باہمی مشاورت اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر قبول نہیں کیے جا سکتے۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی کے ساحل کے قریب موجود کئی جزیرے تمام تر امکانات کے باوجود آج بھی ترقی کے انتظار میں ہیں۔

 

شیئر: