بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستانی سِم کیسے فعال رکھی جا سکتی ہے؟
بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستانی سِم کیسے فعال رکھی جا سکتی ہے؟
پیر 19 جنوری 2026 15:46
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پوسٹ پیڈ سِم رکھنے والے صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام واجبات بروقت ادا کریں (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے موبائل سِمز کے حصول سے متعلق ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے۔
اب طویل عرصے تک موبائل نمبرز استعمال نہ ہونے کی صورت میں ان کے غیرفعال یا مستقل بلاک ہونے کے مسئلے سے بچاؤ ممکن ہے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے تحت اوورسیز پاکستانی بیرون ملک قیام کے دوران بھی اپنی اس موبائل سم کی ملکیت برقرار رکھ سکیں گے، جسے وہ پاکستان میں موجود اہلِ خانہ، بینکنگ، سرکاری اور دیگر ڈیجیٹل سروسز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس شکایت کا اظہار کرتی رہی ہے کہ طویل عرصے تک پاکستان سے باہر رہنے کے باعث ان کی موبائل سِم غیرفعال ہو جاتی ہے، جس کے باعث ان کا نہ صرف لوگوں سے رابطہ متاثر ہوتا ہے بلکہ بینک اکاؤنٹس، نادرا، ٹیکس اور دیگر آن لائن سروسز تک رسائی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
پی ٹی اے کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ان شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی موبائل رجسٹریشن سسٹم کے تحت یہ نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو غیرضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔‘
پی ٹی اے کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ موبائل سِم صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو اور وہ اتھارٹی کے مقرر کردہ اصول و ضوابط پر عمل کرے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام کا بنیادی مقصد سِمز کو مستقل طور پر بلاک ہونے سے بچانا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ڈیجیٹل طور پر پاکستان سے منسلک رکھنا ہے۔‘
پی ٹی اے نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پری پیڈ سِم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ہر 180 دن کے اندر کم از کم ایک بار کسی بھی قسم کی سرگرمی کریں جس میں کال کرنا، ایس ایم ایس بھیجنا، موبائل ڈیٹا استعمال کرنا یا بیلنس لوڈ کروانا شامل ہے۔ دوسری صورت میں ان کی سِم کو غیر فعال کیے جانے کا خدشہ برقرار رہے گا۔‘
اسی طرح پوسٹ پیڈ سِم رکھنے والے صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام واجبات بروقت ادا کریں اور بل کلیئر رکھیں، کیوں کہ بقایاجات کی صورت میں سِم کی سروس متاثر ہو سکتی ہے۔
اس فیصلے پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری عرفان بھٹی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ گزشتہ آٹھ برس سے سعودی عرب کے شہر دمام میں مقیم ہیں اور دو مرتبہ ان کی پاکستانی سِم غیرفعال ہو چکی ہے۔‘
ان کے مطابق ہر بار پاکستان جا کر دوبارہ سم حاصل کرنا یا نمبر بحال کروانا ایک مشکل اور وقت طلب عمل تھا۔ پی ٹی اے کا یہ اقدام ہمارے جیسے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے واقعی بڑی سہولت ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق بقایاجات کی صورت میں سِم کی سروس متاثر ہو سکتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح متحدہ عرب امارات میں مقیم صبا حیدر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں ان کا بینک اکاؤنٹ اور دیگر آن لائن سروسز ان کے زیرِاستعمال موبائل نمبر سے منسلک ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جب میری سِم بند ہوئی تو مجھے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ او ٹی پی اور دیگر تصدیقی پیغامات موصول نہیں ہو رہے تھے۔ یہ نظام اگر پہلے موجود ہوتا تو مجھے ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔‘
سپین کے شہر بارسلونا میں مقیم پاکستانی شہری محمد ندیم نے بھی پی ٹی اے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان سے رابطہ برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔‘
ان کے مطابق ہم وطن سے دور ضرور ہیں مگر پاکستان میں ہمارا خاندان، کاروبار اور دیگر روابط موجود ہیں۔ موبائل سم بند ہو جانا ایک چھوٹا مسئلہ نہیں بلکہ اس کی وجہ سے کئی معاملات رُک جاتے ہیں۔ پی ٹی اے کا یہ قدم دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی مواصلاتی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔‘
ان کے مطابق اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملک کی مالی صورت حال کو مستحکم رکھنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا حل اتھارٹی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
پی ٹی اے نے اوورسیز پاکستانیوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ بیرون ملک قیام کے دوران اپنی سِم کی رجسٹریشن کی تفصیلات درست رکھیں اور اتھارٹی کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں تاکہ موبائل سم کو سرورز سے مستقل بلاک ہونے سے بچایا جا سکے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام محض ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان سے جوڑے رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔‘
’اس نظام کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی باآسانی پاکستان میں موجود اپنے اہلِ خانہ، کاروبار اور دیگر اہم معاملات سے جڑے رہ سکیں گے۔‘