Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور بمقابلہ کراچی: عامر خاکوانی کا کالم

’لاہور کی زندگی میں سے شام، چائے، بیٹھک، گپ شپ، کھابوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
کہتے ہیں شہروں کی مثال دلہن جیسی ہے۔ بعض ایسی کہ شادی کے ہفتوں بعد تک گھونگھٹ اوڑھے رہتیں، بہت دھیرے دھیرے ان کےاوصاف سسرال والوں کے سامنے آتے اور انہیں مسحور کرتے ہیں۔ جبکہ بعض ایسی جو اگلے روز سے گھر والوں میں یوں بےتکلفی اور اپنائیت سے گھل مل جائیں۔ شادی کے مہمانوں کے لیے پہچاننا مشکل ہو جائے کہ کون سی دلہن اور کون گھر کی کوئی لڑکی۔
میرا آبائی شہر تو خیر احمد پورشرقیہ ہے، بہاولپور کی ایک قدیمی تحصیل جو عباسی نوابوں کا شہر کہلاتا رہا۔ آبائی شہر سے ہر ایک کی بہت سی یادیں وابستہ ہوتی ہے۔ میری بھی ہیں۔ تاہم میری زندگی میں دو شہروں کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ کراچی اور لاہور۔ یہ دونوں شہر میری زندگی کا اہم حصہ رہے۔ صحافت میں نے لاہور میں کی، کراچی میں اس سے پہلے کا خاصا وقت گزرا، کچھ عرصہ تعلیم بھی حاصل کی۔ دونوں شہروں کا الگ الگ ذائقہ، مہک اور لذت ہے۔ کسی کو دوسرے سے کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ یہ پلاؤ یا بریانی جیسا موازنہ بھی نہیں کہ کسی کو پلاؤ پسند، کسی کو بریانی پسند۔ بلکہ مجھے تو یہ پائے اور نہاری کا معاملہ لگتا ہے۔ دونوں بہت لذیذ اور شاندار پکوان ہیں مگر باہمی موازنہ نہیں بنتا۔ آدمی کو دونوں کا تجربہ اور مزا لینا چاہیے۔
اوپر شہروں کو نئی نویلی دلہن سے تشبیہ دی گئی۔ لاہور اور کراچی پر اگر یہ مثال منطبق کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاہور آہستہ آہستہ کھلنے والی دلہن جبکہ کراچی پہلی ہی ملاقات میں سحر طاری کرنے والی دلہن ہے۔
لاہور میں ایک خاص قسم کی تاریخ، پرانی تہذیب، ٹھہراؤ، روایت ملتی ہے۔ اندرون لاہور کا مخصوص مزاج، قدیم دروازوں لوہاری، موچی، بھاٹی، شیرانوالہ، یکی گیٹ وغیرہ کے اندر کی فسوں خیز دنیا، گوالمنڈی کا اچھوتا تھڑا کلچر۔ لاہور میں وقت آہستہ گزرتا ہے۔ شہر آپ کو خود میں جذب کرتا ہے اور پھر یہاں باہر سے آ کر رہنے والا بھی خود کو ’لاہوری‘ کہنے لگتا ہے۔
کراچی مختلف مزاج، ٹیمپو اور فلیور کا شہر ہے۔ چکاچوند کر دینے والی چمک، جگمگاہٹ اور رنگینی اس کی شناخت رہی۔ رفتار، تنوع، بےقراری اس کی پہچان ہے۔ یہاں وقت دوڑتا ہے۔ کراچی شہر آپ کو موقع دیتا ہے، شناخت نہیں مانگتا۔ دنیا کے ہر کوسموپولیٹین میگا سٹی کی طرح کراچی میں بھی ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی شہر سے آیا ہوا۔ اسی لیے یہ مِنی پاکستان کہلایا۔
لاہور میں شہر گود لے لیتا ہے۔ کراچی میں شہر کام پر رکھ لیتا ہے۔ لاہور میں رہائش ایک رشتہ۔ کراچی میں رہائش ایک معاہدہ۔
لاہور میں ماضی ہر گلی میں سانس لیتا ہے۔ مغلیہ دور، سکھ سلطنت، برطانوی اثر اور پھر پچھلی پون صدی میں پنجاب کا اجتماعی رنگ اور امپیکٹ۔ لاہور شہر یاد دلاتا ہے کہ ’تم کہاں کھڑے ہو۔‘ کراچی میں ماضی نسبتاً کم، حال زیادہ۔ تاریخ انسانوں کے ساتھ آئی، شہر کے ساتھ نہیں۔ یادداشت افراد میں ہے، عمارتوں میں نہیں۔

کراچی میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے شہری آباد ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دونوں شہروں کی روزمرہ زندگی بھی دلچسپ ہے۔ لاہور کی زندگی نسبتاً سلو پیس میں سانس لیتی ہے۔ یہاں کی زندگی میں سے شام، چائے، بیٹھک، گپ شپ، کھابوں کو الگ نہیں کر سکتے۔ اب تو کراچی میں بھی یہ ہو گیا ہے، خاص کر کوئٹہ وال ہوٹلوں کے بعد، مگر کراچی میں ٹریفک بہت تیز، بہت زیادہ جبکہ زندگیوں میں ٹارگٹ، ڈیڈ لائن کی اہمیت غیرمعمولی۔
لاہور کی زبانیں پنجابی، اردو، اب کہیں کہیں سرائیکی بھی۔ گفتگو میں جگت، لطیفہ اور پھر بلند قہقہہ۔ بات گھما کر کہی جاتی ہے، طنز میں مرچ کا تناسب کم، خاموشی بھی ایک جملہ ہوتی ہے۔
کراچی میں نسلی، لسانی تنوع بہت زیادہ۔ اتنی مختلف زبانوں، کلچر، رسم و رواج والی قومیں، کمیونیٹیز، گروہ کراچی میں آباد ہیں کہ لاہوریے اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ کراچی کی زبانیں اردو، میمن، گجراتی، پشتو، سندھی، سرائیکی، کہیں بلوچی اور مکرانی بھی۔ بات سیدھی اور فوری۔ طنز تیز اور کھرا۔ خاموشی وقت کا ضیاع سمجھی جاتی ہے۔ کام دھندے پر فوکس۔ خود لاہوری بھی کہتے ہیں کہ کاروبار کا مزا کراچی میں ہے، کراچی والوں کے ساتھ۔
لاہور میں اقتدار کا مرکز قریب، فیصلے سنائی دیتے ہیں۔ سیاست اداروں میں ہوتی ہے۔ احتجاج بھی ضابطے میں۔ کراچی میں اقتدار دور، فیصلے باہر ہوتے ہیں، سیاست گلی تک اتر آتی ہے، احتجاج اس قدر زیادہ ہوتا رہا کہ روزمرہ کا حصہ بنا۔
معیشت اور روزگار کا معاملہ بھی مختلف ہے۔ لاہور میں سرکاری نوکری، تعلیم، کاروبار، معاشی رفتار متوازن۔ نوکری شناخت دیتی ہے، ترقی آہستہ مگر محفوظ۔ کراچی میں تجارت، بندرگاہ، صنعت۔ معاشی رفتار تیز۔ نوکری ذریعہ بقا۔ ڈبل جاب ایک عمومی ضرورت۔ ترقی تیز مگر غیرمحفوظ۔

لاہور کی زندگی نسبتاً سلو پیس میں سانس لیتی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سب سے پریشان کن اور افسوس ناک موازنہ شہریوں میں تحفظ اور خوف کے احساس کا ہے۔ اس میں لاہور کو واضح طور پر برتری حاصل ہے۔ لاہور میں خوف کبھی کبھار۔ تحفظ معمول، ریاست دکھائی دیتی ہے۔ راتیں نسبتاً پرسکون۔ کراچی میں خوف روز کا ساتھی، تحفظ ذاتی انتظام، ریاست دور محسوس ہوتی ہے۔ راتیں البتہ پھر بھی جاگتی ہیں۔
لاہور اور کراچی کا موازنہ اس ایک واقعے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہمارے ایک صحافی دوست کراچی کی ایک مشہور سیاسی جماعت کے جبر کےخوف سے چند برس کے لیے لاہور شفٹ ہو گئے، یہاں ایک ٹی وی چینل میں انہیں ملازمت مل گئی، کالم بھی لکھتے رہے۔ ان کے ساتھ یارانہ تھا، بہت سی شامیں اکٹھی گزاریں۔ اکثر محسوس ہوتا کہ وہ چلتے چلتے یکایک مڑ کر پیچھے دیکھتے۔ سگنل پر گاڑی کھڑی ہوتی تو چوکنا ہو کر اپنے دائیں بائیں دیکھتے رہتے، گاڑی اندر سے لاک رکھتے اور بار بار اسے چیک کرتے رہتے۔ ان کا موبائل ہمیشہ سائلنٹ یا وائبریشن پر رہتا۔ کال آنے پر ہچکچاتے ہوئے فون جیب سے باہر نکال کر اٹینڈ کرتے۔
ایک دن وجہ پوچھی تو کہنےلگے کہ ’برسوں کراچی میں اسی خوف کے ساتھ گزرے کہ پیچھے کوئی نشانے باز تو نہیں آ رہا۔ سڑک پر موبائل کان سے لگا کر سننے کی عادت نہیں کہ موبائل فوری چھن جاتا ہے۔ کراچی میں سگنل پر اکثر یہ خطرہ رہتا کہ ساتھ کھڑے بائیک والا یکایک پسٹل نکال کر کھڑکی کے شیشے سے لگا دے گا کہ موبائل اور پرس تھما دو۔ اب لاہور میں ہوں، جہاں ان میں سے کچھ بھی نہیں۔ اس کے باوجود اعصاب ابھی تک کشیدہ، کھنچے رہتے ہیں، کچھ مزید وقت لگے گا جسم اور دماغ کو اپنی منفی میموری ڈیلیٹ کرنے میں۔‘ یہ سن کر دل یوں افسردہ ہوا کہ آج تک اس کا دھواں رگ و جاں میں سمایا ہوا ہے۔

کراچی مختلف مزاج، ٹیمپو اور فلیور کا شہر ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ثقافت اور تفریح کا معاملہ بھی دونوں شہروں کا دلچسپ ہے۔ لاہور میں مشاعرہ، تھیٹر، ادبی بیٹھک۔ تہوار روایت کے ساتھ، تفریح اجتماعی۔ ذوق نسل در نسل۔ کراچی میں کنسرٹ، کیفے، سٹریٹ کلچر۔ تہوار نئے رنگوں میں۔ تفریح انفرادی، ذوق تجربے سے بنتا ہے۔
یہ البتہ ذاتی مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ کتاب کلچر میں کراچی لاہور سے بڑھ گیا ہے۔ کراچی کا سالانہ کتاب میلہ لاہور سے دو تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ لوگ بے تہاشا کتابیں خریدتے ہیں۔ کراچی میں آرٹس کونسل بھی بہت فعال اور توانا ہے، بہت سی ادبی سرگرمیاں رہتی ہیں۔ لاہور آرٹس کونسل اس سے کوسوں پیچھے ہے۔ البتہ حلقہ ارباب ذوق اور بعض دیگر ادبی حلقے یہاں ضرور ہیں جو کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔
لاہور کا موسم شدید گرمی، شدید حبس اور پھر شدید سردی والا۔ سردیوں میں شدید دھند جو سب کچھ دھندلا دے۔ نومبر میں گلا گھونٹ دینے والی سموگ کا عفریت بھی سر اٹھا لیتا ہے۔ لاہور میں موسم باتوں کا موضوع ہے۔ زندگی موسم کے ساتھ چلتی ہے۔ کراچی میں حبس، نمی، یکسانیت سی ملتی ہے۔ ذرا سورج جوبن دکھائے یا سردی کی لہر آجائے تو اہل کراچی ہل جاتے ہیں، فیس بک پر پوسٹیں آنے لگتی ہیں۔ لاہوریے اس پر مسکراتے اور شوخ تبصرے کرتے ہیں کہ ان کا واسطہ ہی شدتوں سے پڑتا ہے۔ کراچی میں موسم پس منظر میں رہتا ہے، زندگی موسم کے خلاف چلتی ہے۔
آخر میں اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ لاہور بہتر ہے یا کراچی، تو میرا جواب یہی ہو گا کہ یہ سوال ہی درست نہیں۔ یہ دو شہر نہیں، دو مزاج ہیں، دو تجربے ہیں۔ لاہور ٹھہراؤ سکھاتا ہے، کراچی جدوجہد۔ لاہور سانس لینا یاد دلاتا ہے، کراچی دوڑنا۔ ایک نے شناخت دی، دوسرے نے وسعت۔

لاہور میں سموگ نومبر سے شروع ہو جاتا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سچ یہ ہے کہ لاہور کو ہم نے سنبھال لیا، کراچی کو ہم نے سنبھالا نہیں۔ قصور کراچی کا نہیں، اہلِ کراچی کا بھی نہیں۔ قصور اُن کا ہے جن کے ہاتھ میں اقتدار، وسائل اور اختیار رہا۔ یہی فرق آج دونوں شہروں کے حال میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود کراچی زندہ ہے، جاگتا ہے، کماتا ہے اور پورے ملک کو سہارا دیتا ہے۔ لاہور پر شکر ادا کرنا چاہیے اور کراچی پر افسوس بھی، اور شرمندگی بھی۔ شہرنگاروں کو ہم نے کیسا برباد کیا۔
شروع میں شہروں کو دلہن سے تشبیہ دی تھی، بات وہیں مکمل ہوتی ہے۔ لاہور وہ دلہن ہے جو وقت کے ساتھ دل میں اترتی ہے، کراچی وہ دلہن جو پہلی ہی نظر میں دل موہ لیتی ہے۔ اصل مسئلہ انتخاب کا نہیں، سلوک کا ہے۔ دل اگر بڑا ہو تو انسان دونوں سے محبت کر سکتا ہے۔
لاہور سنور رہا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ نکھر رہا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کراچی کی قسمت کون سنوارے گا؟ وہ جن کے پاس سندھ کا اقتدار، قوت اور وسائل ہیں، اپنے صوبے کے جھومر، اپنے نمائندہ شہر، اپنی آئیکون سٹی پر کب توجہ دیں گے؟ کراچی کب واقعی رہنے کے قابل، محفوظ اور آسان شہر بنے گا؟
یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب ہمیں ڈھونڈنے چاہییں۔ کراچی سے محبت کرنے والے ہر شخص کو، پاکستان سے محبت کرنے والے ہر انسان کو، اس ستم رسیدہ شہر کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ میں ایک لاہوری، اپنے ایک اور محبوب شہر کراچی کے لیے یہ آواز آج بھی بلند کر رہا ہوں۔

 

شیئر: