Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کی غزہ شہر کے رہائشیوں کو نکل جانے کی ’آخری‘ وارننگ

عینی شاہدین نے غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز میں شدید بمباری کی اطلاع دی (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیر دفاع نے غزہ شہر کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف فرار ہونے کی حتمی وارننگ جاری کی، کیونکہ حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطینی علاقے میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے منصوبے کو طول دیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عینی شاہدین نے غزہ کے سب سے بڑے شہری مرکز میں شدید بمباری کی اطلاع دی، کیونکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا تھا کہ فوج شہر کا گھیراؤ سخت کر رہی ہے۔
کاٹز نے بدھ کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’یہ غزہ کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ جنوب کی طرف بڑھیں اور غزہ شہر میں حماس کے کارندوں کو الگ تھلگ چھوڑ دیں، جو لوگ باقی رہیں گے انہیں دہشت گرد اور دہشت گردوں کا حامی تصور کیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ فوج نے وسطی غزہ کی پٹی میں نیٹزاریم کوریڈور پر قبضہ کر لیا ہے جو مغربی ساحل تک پہنچ گیا ہے اس اقدام سے غزہ کے شمال کو جنوب سے کاٹ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی غزہ شہر سے جنوب کی طرف جائے گا اسے اسرائیلی فوجی چوکیوں سے گزرنا پڑے گا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فوج نے کہا کہ وہ جنوبی غزہ کے رہائشیوں کے لیے شمال تک رسائی کے لیے آخری راستہ بند کر رہی ہے۔
غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کے احاطے میں ایک خیمے میں رہنے والے 60 سال کے رباح الحلبی نے کہا کہ ’میں نہیں جاؤں گا کیونکہ غزہ شہر کی صورت حال جنوبی غزہ کی پٹی کی صورت حال سے مختلف نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ تمام علاقے خطرناک ہیں، ہر جگہ بمباری ہو رہی ہے اور نقل مکانی خوفناک اور ذلت آمیز ہے۔
’ہم موت کا انتظار کر رہے ہیں، یا شاید خدا کی طرف سے راحت ملنے اور آنے والی جنگ بندی کا۔‘
دوسری طرف حماس کے عہدیدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں غیر مسلح ہونے سے متعلق شقوں میں ترمیم چاہتے ہیں۔
یہ بات بدھ کو ایک فلسطینی ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی۔

حماس کی قیادت مزید چاہتی ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں (فوٹو: اے ایف پی)

ذرائع کے مطابق حماس کے مذاکرات کاروں نے منگل کو دوحہ میں ترک، مصری اور قطری حکام کے ساتھ بات چیت کی، اور مزید کہا کہ گروپ کو جواب دینے کے لیے ’زیادہ سے زیادہ دو یا تین دن درکار ہوں گے۔‘
ٹرمپ کے منصوبے میں جس کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے حمایت کی، میں جنگ بندی، حماس کی جانب سے 72 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی، گروپ کے غیر مسلح ہونے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے تدریجی انخلا کی تجویز دی گئی ہے۔
تاہم فلسطینی ذریعے کا کہنا ہے کہ حماس کچھ شقوں، جیسے کہ غیر مسلح ہونے اور حماس و دیگر دھڑوں کے ارکان کی بے دخلی، میں ترمیم چاہتی ہے۔
حماس کی قیادت مزید چاہتی ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں، اور اس بات کی بھی ضمانت دی جائے کہ اندرون یا بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگز نہیں ہوں گی۔

 

شیئر: