وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان اور افغانستان کے درمیان خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدوں پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اتوار کو وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر کارروائی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
مزید پڑھیں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان کی فوج نے اتوار کی صبح فیصلہ کن جوابی کارروائی کی جس میں افغان فوجیوں اور عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچانے کےعلاوہ 19 افغان پوسٹس پر قبضہ اور متعدد کو تباہ کیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے، ان کو پسپائی پر مجبور کیا‘
’ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے کئی دفعہ افغانستان کو وہاں موجود فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے دہشت گرد عناصر کے بارے میں معلومات دی ہیں، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
’دہشت گرد تنظیموں کو افغانستان میں موجود عناصر کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان نگران حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد عناصر کے استعمال میں نہ آئے۔‘

دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، اسحاق ڈار
پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سرحد پر ہونے والی جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دفاعی کارروائی پرامن افغان عوام کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا ’طالبان کی فوج کے برعکس ہم نے دفائی کارروائی میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ شہری آبادی کو نقصان سے بچایا جائے۔‘
’ہم طالبان حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ پاکستان افغانستان تعلقات کو خراب کرنے والے دہشت گرد عناصر اور ان کے حمایتیوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے گی۔‘
Deeply concerned over the developments on Pak-Afghan border. Unprovoked firing and raids along Pak-Afghan border by the Taliban Government is a serious provocation. Pakistan's befitting response and strikes are against Taliban infrastructure and to neutralize Fitna-e-Khawarij…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) October 12, 2025
افغانستان ہمیشہ بات چیت کا حامی رہا ہے: افغان وزیرِ خارجہ
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان ہمیشہ بات چیت کا حامی رہا ہے، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کریں گے۔
اتوار کو نئی دہلی میں پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیشتر لوگ امن کے خواہاں ہیں، مگر چند مخصوص حلقے تعلقات میں تناؤ پیدا کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان نے اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع میں ضروری اقدامات کیے اور اپنے اہداف حاصل کیے۔

جھڑپوں میں افغانستان کے 9 اہلکار ہلاک 16 زخمی ہوئے، ذبیح اللہ مجاہد
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تصدیق کی ان جھڑپوں میں ان کے 9 اہلکار ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے جھڑپوں میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کے جان سے جانے کا دعویٰ بھی کیا تاہم پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ہمسایہ ممالک میں موجود بعض مخصوص حلقے افغانستان میں پُرامن اور مستحکم حالات سے خوش نہیں ہیں اور انہیں افغان عوام کی خوشحالی گوارا نہیں، اسی وجہ سے وہ سازشوں میں مصروف ہیں۔
پاکستان افغانستان سرحد پر جھڑپیں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان افغانستان بارڈر پر انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ (بلوچستان) کے مقامات پر بِلااشتعال فائرنگ کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو فوری اور مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
’فائرنگ کا تبادلہ جلد ہی بھرپور جوابی کارروائی میں تبدیل ہو گیا اور سرحد کے ساتھ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جاری رہا۔‘
ذرائع کے مطابق ’پاکستان کی فوج کی جانب سے سے بروقت جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغانستان میں متعدد چیک پوسٹس کو تباہ کیا اور درجنوں افغان فوجی اور خوارج مارے گئے۔‘

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی نے ان 19 افغان پوسٹس پر قبضہ کیا ہے جن کو پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
طالبان جنگجو مبینہ طور پر اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے جبکہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور اپنا ساز و سامان بھی چھوڑ گئے۔
افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا، محسن نقوی
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغان فورسز کی شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی بہادر فورسز نے فوری مؤثر جواب دے کر ثابت کیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کو قعطا برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
’پاکستان کی فورسز چوکس ہیں اور افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔‘
سعودی عرب کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پر اظہار تشویش
سعودی عرب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق سنیچر کو سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں تحمل، کشیدگی سے گریز کرنے، بات چیت اور دانشمندی سے کام لینے پر زور دیا جو کشیدگی کو کم کرنے، خطے میں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
وزارت نے بیان میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی سپورٹ اور سلامتی کو یقینی بنانے کےلیے اپنےعزم کا اعادہ کیا جس سے پاکستانی اور افغان عوام کے لیے استحکام اور خوشحالی حاصل ہوگی۔











