Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’زیرو سے منصوبے کا آغاز‘،سعودی خاتون نے ایک بیابان کو کافی کے باغات میں بدل دیا

سعودی عرب کی الدایر کمشنری کی رہائشی خاتون نے زرعی ترقیاتی فنڈ کے تعاون سے علاقے کے بیابان کو ’کافی‘ کے باغات اور دلکش تفریحی فارم ہاؤس میں تبدیل کر دیا۔
مملکت کے وژن 2030 کے اہداف میں شامل اہم نکات میں سعودی خواتین کو بااختیار بنانا بھی ہے۔ اس حوالے سے مختلف شعبوں میں سعودی خواتین کے نمایاں کردار سامنے آ رہے ہیں۔
قنیف فارم ہاؤس میں جہاں اعلٰی معیار کی کافی کاشت کی جاتی ہے، وزیٹرز بھی علاقے کی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
سارہ المالکی نے اپنے منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اس علاقے میں زیرو سے اپنے زرعی و سیاحتی منصوبے کا آغاز کیا اور آج آپ کے سامنے یہ دلکش مناظر ہیں جبکہ معیاری کافی کی کاشت میں بھی کامیابی حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا ’یہاں ہم نہ صرف زراعت کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ مہمان نوازی اور تفریحی و سیاحتی سرگرمیوں کا بھی مثالی تجربہ پیش کرتے ہیں۔‘
کامیاب سفر کے حوالے سے سوال پر سارہ المالکی کا کہنا تھا کہ ’یہ مقام برسوں سے ویران و بیابان تھا یہاں کوئی نہیں آتا تھا۔ اس جگہ کی خصوصیت کو دیکھ کر خیال آیا کہ کیوں نہ قدرتی حسن سے مالا مال اس جگہ کافی کی کاشت کا آغاز کیا جائے جو یہاں کی خاص فصل بھی ہے۔‘

سارہ المالکی کا کہنا تھا بیابان کو فارم ہاؤس میں تبدیل کرنا مشکل کام تھا۔ (فوٹو: سکرین گریب)

سارہ المالکی نے مزید بتایا کہ ’کافی کی کاشت کے لیے ڈھلواں (سیڑھیاں) بنائی گئیں جس کے لیے کافی دقت کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ بیابان کو ایک فارم ہاؤس میں تبدیل کرنا مشقت کا کام تھا۔‘
ان کے مطابق ’ویسے تو یہ کہنے میں بہت آسان دکھائی دیتا ہے مگر جب منصوبے پر عمل کا آغاز کیا تو اندازہ ہوا کہ مشکلیں ابھی تو آئی ہی نہیں ہیں۔ اسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو ہمت نہیں ہارنی۔ اسی سوچ کے ثمرات آج آپ کے سامنے ہیں۔‘
قنیف فارم ہاؤس میں اس وقت کافی کی کاشت کے مختلف مراحل کے بارے میں وہاں آنے والے سیاحوں کو آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں کافی کے پودوں سے  بیچوں کو اتارنے سے لے کر ’قہوہ‘ کی تیاری تک کے تمام مراحل  شامل ہیں۔
سارہ المالکی  بتایا کہ ان کے متعدد اہداف ہیں جن میں کافی کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معیار کو مزید بہتر کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں وہ سیاحت کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں تاکہ وطن عزیز کی خوبصورتی کو دنیا بھر میں نمایاں کیا جا سکے۔

 

شیئر: